مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوجیوں نے سرینگر میں 4نوجوان شہید کردیئے

گیلانی ،میرواعظ ، یاسین ملک نظربند، مقبوضہ علاقے میں(کل) مکمل ہڑتال کی کال

ہفتہ مئی 18:33

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں میں ہفتہ کو سرینگر میں 4کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے تین نوجوان کو سرینگر کے علاقے چھتہ بل میں محاصرے اور تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔چوتھے نوجوان کوجس کی شناخت عادل احمد کے طورپر ہوئی ہے ، بھارتی فورسز کی ایک گاڑی نے نور باغ کے علاقے میں جان بوجھ کر ٹکر مار کر شہید کردیا۔

چھتہ بل میںبھارتی فوج کے تین اہلکار بھی زخمی ہوگئے ۔نوجوانوں کی شہادت کے فوراً بعد سرینگر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔۔بھارتی فوج اور پولیس کے اہلکاروںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں تین صحافیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

(جاری ہے)

قابض انتظامیہ نے لوگوں کو چھتہ بل کی صورتحال کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے سے روکنے کیلئے سرینگر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔

دریں اثناء سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں شہید نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ حریت رہنمائوں نے نوجوانوں کے قتل کے خلاف (کل) مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس سے پہلے قابض انتظامیہ نے ان رہنمائوںکو کل سرینگر میں پریس کانفرنس کرنے سے روکنے کے لیے سید علی گیلانی اورمیرواعظ عمر فاروق کوگھروں میں جبکہ محمد یاسین ملک کو کوٹھی باغ پولیس سٹیشن میں نظربند کردیا۔

بھارتی پولیس نے حریت رہنما مختار احمد وازہ کوضلع اسلام آباد کے علاقے سری گفوارہ سے گرفتار کرلیا۔ سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طوپر نظربند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہا رکیا ہے۔ انہوں نے کہا شبیر احمد شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جموں وکشمیر مسلم لیگ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ غیر قانونی طورپر نظربند اس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کی نظربندی کو طول دے رہی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ مسرت عالم بٹ کو 2010ء کے ایک جھوٹے کیس کے سلسلے عدالت میں پیش کرنے کے لیے کوٹ بھلوال جیل جموں سے سرینگرلایا گیا تھا اوربعد میں انہیںواپس اسی جیل میںمنتقل کردیا گیا۔

ادھر بھارتی فورسز کی طرف سے چھاپوں کے دوران نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف آج ضلع اسلام آباد کے علاقے دیالگام میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ سرینگر میں کشمیریونیور سٹی میں طلباء نے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں کم سن بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کیس کو دبانے اور مجرموں کو بچانے کی بھارتی کوشش کے خلاف جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے زیر اہتمام مظفر آباد میں آج شہید برہان چوک میں ایک بڑی ریلی منعقد کی گئی۔ شرکاء نے ہاتھوںمیں پلے کارڈز ، بینرزاور سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ علاقے سے بھارتی فوجیوں کے انخلاء اور کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدر آمد کے مطالبات درج تھے۔