محکمہ صحت بلوچستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ملازمتوں سے متعلق پابندیاں ہوا میں اڑا دی گئیں

�پوسٹوں پر صرف2 اضلاع نصیرآباد اور جعفرآباد کو ترجیح دے کر باقی تمام اضلاع کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا

ہفتہ مئی 19:10

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) محکمہ صحت بلوچستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ملازمتوں سے متعلق پابندیاں ہوا میں اڑا دی 399 پوسٹوں پر صرف2 اضلاع نصیرآباد اور جعفرآباد کو ترجیح دے کر باقی تمام اضلاع کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا 9 سی15 اسکیل کے بھرتیوں کو بغیر ٹیسٹنگ سروس کے بھرتی کیا گیا جبکہ صوبائی کا بینہ کے احکامات کو بھی اس حوالے سے نظرانداز کیا گیا صوبائی کا بینہ نے 10 جنوری 2017 کو فیصلہ دیا تھا کہ محکمہ صحت میں گریڈ9 سی15 پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل کو بذریعہ این ٹی ایس پر کیا جائیگا لیکن محکمہ صحت نے ایسا نہیں کیا ذرائع کے مطابق ضلع نصیر آباد میں محکمہ صحت میں 21 کٹیگری کی101 اسامیوں کو پر کرنے کے لئے 8 نومبر2014 کو اشتہار دیا گیا تھا جبکہ 3 اپریل 2018 کو 137 افراد کو بھرتی کیا گیا جبکہ یکم اپریل 2018 سے الیکشن کمیشن نے نئے بھرتیوں پر پابندی عائد کی ہے محکمہ خزانہ نے 4 اپریل کو محکمہ صحت کے مختلف دفاتر میں 399 نئے آسامیاں مختص کی تھی قانون کے مطابق نئے آسامیوں کو پہلے مشتہر کیا جاتا ہے اور تمام قانونی کا رروائی کر کے پھر بھر تیاں عمل میں لائی جاتی ہے لیکن قانون کا پامال کر تے ہوئے محکمہ صحت ان آسامیوں کو مختص کر کے چار دن بعدان پر بھرتیاں کی گئی اور زیادہ تر بھرتیاں جعفرآبا د اور نصیر آباد میں کی گئی جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کو یکسر نظرانداز کیا گیا جبکہصوبائی کا بینہ نے دس جنوری کو فیصلہ کیا تھا کہ محکمہ صحت گریڈ 9 سی15 پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل اسامیوں کو بذریعہ این ٹی ایس پر کیا جائیگا لیکن محکمہ صحت نے کابینہ کے منظوری کے باوجود این ٹی ایس کے ذریعے پوسٹوں کو پر نہیں کیا گیا نصیر آباد میں 9 اسکیل میڈیکل ٹیکنیشن کی آسامیاں اشتہار میں 7 تھی جبکہ 12 بھرتی کئے گئے اسی طرح لیڈی ہیلتھ ویزٹر اسکیل9 اسامیاں اشتہار میں13 بلکہ بھرتی16 کئے گئے ان کو بھی بغیر ٹیسٹ وانٹریو بھرتی کئے گئے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے یکم اپریل کو بلوچستان بھر میں تمام محکموں میں بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن محکمہ صحت نے الیکشن کمیشن کے احکامات کو نظرانداز کر تے ہوئے 400 سے زائد بھرتیاں کی گئی جس پر بے روزگار نوجوانو ں نے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر تمام اسامیوں کو منسوخ کر کے الیکشن کمیشن کے احکامات کو نظرانداز نہ کیا جائے اگر ایسا کیا گیا تو ہم سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی وزیر صحت اور محکمہ صحت پر عائد ہو گی۔