پاکستان ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے ،چھوٹے سے مفاد کیلئے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا نعرہ لگا دیا گیا ‘ سعد رفیق

جنہوںنے یہ نعرہ لگوایا انہوں نے نہیں سوچا اور زیادتی کی ،لوگوںکو موقع دیں وہ اپنے ووٹ سے فیصلہ کر لیں گے‘تقریب سے خطاب ٹرینوں میں فیملیز کے احترام کو یقینی بنایا جائے،خواتین اور بچیوں کیساتھ سفر کرنیوالوں کیلئے الگ کوٹہ مختص کیا جائے‘وزیر ریلوے کی زیر صدارت اجلاس

ہفتہ مئی 18:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے ،چھوٹے سے مفاد کیلئے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا نعرہ لگا دیا گیا ،جنہوںنے یہ نعرہ لگوایا انہوں نے نہیں سوچا اور زیادتی کی ،لوگوںکو موقع دیں وہ اپنے ووٹ سے فیصلہ کر لیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلویز پولیس کی جانب سے ریٹائر ہونے والی چیئر پرسن و وفاقی سیکرٹری پروین آغا کے اعزاز مین منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک کو ایک اور حادثے کی طرف لیجایا جارہا ہے کیا اس سے دل خراب نہیں ہوگا۔ چھوٹے سے مفاد کیلئے انتخابات سے تین مہینے پہلے نعرہ لگا دیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائو ۔

(جاری ہے)

صوبہ بننا چاہیے لیکن اگر نسل ،زبان اور برادریوں کی بنیاد پر صوبے بنائیں گے تو ملک میں کتنے صوبے بنائیں گے۔۔پنجاب کے چار صوبے کریں گے تو کیا باقی صوبے جڑے رہیں گے،باقی صوبوں کے اندر تقسیم ہوئی اور کسی دن کسی نے کوئی قرارداد پاس کر دی تو پھر ایسا کرنے والے کو کون پکڑے گا ۔

جنہوں نے یہ نعرہ لگوایا ہے کیا انہوں نے سوچا ، انہوں نے نہیں سوچا اور زیادتی کی ۔ اچھا ہوتا جو جارہے تھے وہ کسی اور پارٹی میں چلے جاتے لیکن سنٹرل پارٹی میں جاتے ، کیا یہ ملک کو چلانے کا طریقہ ہے۔کسی ایک کو انگیج کرنے کے لئے سپینر پھینک دو، وقت تو گزر جائے گا لیکن یہ واپس نہیں آئے گا۔ہم پاکستان کے ساتھ یہ کام کیوں کرتے ہیں ، اگر ایسا ہو تو کیا دل خراب نہیں ہوگا، تکلیف نہیں ہو گی ۔

انہوںنے کہا کہ ہم سے بہت بہتر لوگ ہوں گے ،بڑے باصلاحیت لوگ ہوں گے جنہیں موقع نہیں ملا ۔ لوگوں کو موقع دینے دیں لوگ اپنے ووٹ سے فیصلہ کر لیں گے۔ یہ ہمار اقومی المیہ ہے کہ پاکستان ایک بڑے بحران کا سامنا کررہا ہے۔علاوہ ازیں خواجہ سعد رفیق نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز آفس لاہورمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ادارے میں آنے والی جدت اور مسافروں کو دی جانے والی سہولیات پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی ۔

اجلاس میں ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی فہد رحمان نے خصوصی بریفنگ دی جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عبدالحمید رازی ،مشیر ریلوے انجم پرویز ،ممبر فنانس فیصل اسماعیلی اور چیف پرسانل آفیسر چوہدی بلال سرور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ فیملیز کا احترام ہماری مذہبی تعلیمات اور معاشرتی روایات کا اہم ترین حصہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جہاں مسافروں کو سہولت اور اعتماد ملے گا وہاں اللہ کریم کی ذات بھی خوش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اپ گریڈ کی جانے والی تمام ٹرینوں میں اب پردے لگائے جا رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ہدایت کی کہ ٹرین ڈیپارچر کے بعد سفر نہ کرنے والے مسافروں کو قواعد کے مطابق ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ریفنڈ کیا جائے تاکہ انہیں مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ٹرینوں میں ٹکٹوں کے اجراء یا تبدیلی کے عمل کو ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسزکے ذریعے ریلوے کے کمپیوٹرائزڈ نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔ اسے پائیلٹ پراجیکٹ کے طور پر قراقرم ایکسپریس میں شروع کیا جا رہا ہے جس سے نظام میں مزید سہولت اور شفافیت آئے گی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ای ٹکٹنگ سمیت دیگر جدید ذرائع کا کامیابی کے ساتھ استعمال موجودہ انتظامیہ کی بڑی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے ایک دن میں ایک کروڑ روپے کی ٹکٹیں آن لائن فروخت کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے اور دوسری طرف پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈوپلیکیٹ ٹکٹ کا اجرا کیا گیا ہے جس کی بنیاد بھی کمپیوٹرائزڈ نیٹ ورک ہے۔

اس نئے نظام کے اجرا کے بعد مختصر عرصے میں پاکستان ریلوے ستر لاکھ روپے کی متبادل ٹکٹیں جاری کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام اور انٹر نیٹ کے ذریعے ٹکٹ کے اجرا کے آڈٹ کے نظام کو مزید سخت اور موثر بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جدید ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے ذریعے ٹرین میں ٹکٹوں کے اجرا سے سہولت میں اضافہ اور بد عنوانی کی روک تھام ہو گی ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آن لائن ریزرویشن میں ٹکٹ کینسل کروانے والوں کے لئے ادا کی گئی رقم کی واپسی کا خود کار نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ آنے والے ادوار میں بھی ترقی ،جدت اور سہولتوں کی فراہمی کا سفر جاری رہے گا۔