انتخابات میں بطور سربراہ ملٹری انٹیلی جنس پنجاب (ن) کی کامیابی میں کوئی کردار نہیں تھا‘ بریگیڈئیر (ر) مظفر رانجھا

فوج بحیثیت ادارہ کام کرتا ہے ،الزام کی تحقیقات کیلئے نیا کمیشن بنایا جائے ،عمران بیان حلفی دیں میں بھی دوںگا تحقیقات سے قبل عمران خان سے یہ سمجھوتہ طے کرالیا جائے کہ کمیشن کے نتائج کے بعد ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہونگے

ہفتہ مئی 18:30

انتخابات میں بطور سربراہ ملٹری انٹیلی جنس پنجاب (ن) کی کامیابی میں کوئی ..
اسلام آباد/لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بریگیڈئیر (ر) مظفر علی رانجھا نے عمران خان کی جانب سے گزشتہ عام انتخابات میں انکی جانب سے بطور سربراہ ملٹری انٹیلی جنس پنجاب (ن) لیگ کی کامیابی میں کسی کردار کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزام کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیشن بنایا جائے ۔۔عمران خان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں الزام عائد کیا تھاکہ 2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن)کو فوج کی مدد حاصل تھی۔

عمران خان نے موجودہ ڈی جی اینٹی کرپشن اور ملٹری انٹیلی جنس پنجاب کے سابق سربراہ بریگیڈئیر(ر)مظفر علی رانجھا پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کی فتح کو یقینی بنایا۔ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر علی رانجھا نے عمران خان کے بیان کی سختی سے تردید کی اورکہا کہ عمران خان غیر ذمہ دار شخص ہیں جو فوج پر انتخابات میں اثرانداز ہونے کا الزام لگا رہے ہیں، فوج بحیثیت ایک ادارہ کام کرتا ہے، ایک بریگیڈیئر اپنے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ2013ء کے انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی نے سختی سے منع کیا تھا کہ سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنی ۔مظفر رانجھا کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے تھے جس میں کامیابیاں مل رہی تھیں۔انہوںنے عمران خان کے الزام پر خصوصی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بیان حلفی جمع کرائیں میں بھی بیان حلفی دوں گا، جو بھی غلط نکلے اسے سخت سزا دی جائے۔

مظفر علی رانجھا کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پرتحقیقات کے باوجود سیاسی جماعت کے سربراہ کا الزامات لگانا قطعی بے بنیاد ہے۔انہوںنے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گزشتہ تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں تو دھاندلی کے الزامات دوسرے عدالتی کمیشن میں لے کر جائیں۔انہوں نے ازراہِ تمسخر کہا کہ اگر پھر بھی عمران خان اپنا دعوی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اس کی سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا انہیں سابق چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں بننے والے عدالتی کمیشن کے فیصلے سے اطمینان نہیں ہوا تھا جنہوں نے عمران خان کے دھاندلی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا تھا ۔اگر عمران خان کو اب بھی یقین نہیں تو پھر ایک ایسا کمیشن قائم کرنا چاہیے جس میں فوج،، عدلیہ اور میڈیا کے نمائندے شامل ہوں، لیکن اس کمیشن کی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات سے قبل عمران خان سے ایک سمجھوتہ طے کرالیا جائے جس کے مطابق وہ کمیشن کے نتائج کے بعد ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہوں گے۔