محمد احسن ملک کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ

ہفتہ مئی 19:22

محمد احسن ملک کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ڈی ایچ اے اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری محمد احسن ملک نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور چیمبر کے صدر شیخ عامر وحید، سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا کو اپنے شعبے کے مسائل سے آگا ہ کیا اور ان کے حل کیلئے چیمبر کا تعاون چاہا۔

اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے مطالبہ کیا کہ حکومت وزیراعظم کے اعلان کے مطابق پراپرٹی خریدار کیلئے کیپٹل ویلیو ٹیکس اور سٹامپ ڈیوٹی سمیت باقی تمام ٹیکسز کو ختم کر کے صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کرے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پراپرٹی کی فروخت پر عائد کیٹپل گین ٹیکس کی تین سلیب ختم کر کے صرف پانچ فیصد فلیٹ ٹیکس عائد کیا جائے اور گین ٹیکس کے عرصہ کر تین سال سے کم کر کے دو سال کیا جائے۔

(جاری ہے)

انہوںنے صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق پراپرٹی پر باقی تمام ٹیکس ختم کر کے صرف ایک فیصد ٹیکس کا نفاذ کریں۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے اپنے خطاب میں رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ڈی ایچ اے اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری محمد احسن ملک کو یقین دہانی کرائی کہ چیمبر رئیل اسٹیٹ شعبے کے مسائل حل کرانے کیلئے ان کی ایسوسی ایشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ڈی ایچ اے اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری محمد احسن ملک نے اپنے شعبے کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ کے اکائونٹ میں گاہکوں کی رقم گردش کرتی رہتی ہے اور ہر ٹرانزیکشن پر ٹیکس دیا جاتا ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ کے لئے رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کا خاتمہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کیلئے پراپرٹی ٹرانسفر کی شرح کو دو گنا یا تین گنا کر دیا جائے اور ان کو پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی جائے۔ انہوںنے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پراپرٹی خریدنے پر فائلر سمجھا جائے کیونکہ اوورسیز پاکستانی جس ملک میں کام کرتے ہیں ٹیکس ریٹرن بھی وہیں فائل کرتے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ کے دو فیصد سروس چارجز کو قانونی حیثیت دی جائے کیونکہ حکومت نے ان کیلئے انکم ٹیکس کے علاوہ سروسز ٹیکس کا نفاذ بھی کیا ہوا ہے لہذا جب تک اسٹیٹ ایجنٹ کے سروس چارجز کا تعین نہ ہو تو سروسز ٹیکس کی شرح کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے۔