پاکستان ، بھارت کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ زور شور سے جاری ہے ، شہری امن کمیٹی

دونوںملکوں کو اسلحہ کی دوڑ چھوڑ کروسائل کو بروئے کارلا کر اپنے ملکی عوام کی فلا ح وبہود پر خرچ کرنے چاہئے،ملک کی معیشت قرضوں پرچل رہی ہیں، جڑواں شہروں کے ممبران کا نیشنل پریس کلب میں سیمینار سے خطاب

ہفتہ مئی 20:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) شہری امن کمیٹی اسلام آباد راو لپنڈی کے ممبران نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہتھیار بنانے کی دوڑ ماضی کی طرح اب بھی زوروشور پرہے ۔بیس برس پہلے پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے ایٹمی طاقت بننے کا اعلان کیاتھادونوں ممالک کا موقف تھاکہ ایٹمی ہتھیار اپنی قومی سلامتی اور علاقائی امن کے لئے بنائے ہیں، مقررین نے کہا کہ دونوںملکوں کو اسلحہ کی دوڑ چھوڑ کروسائل کو بروئے کارلا کر اپنے ملکی عوام کی فلا ح وبہود پر خرچ کرنے چاہئے۔

ملک کی معیشت قرضوں پرچل رہی ہیں۔ ہفتہ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب سے کرتے ہوئے مقررین میں ایم ضیاء الدین ، ڈاکٹر پریز ہودبھانی ، ماروی سرمد، ڈاکٹر عبدلحمید نیئرسمیت دیگر شخصیات شرکت تھے۔

(جاری ہے)

سیمینار شہری امن کمیٹی ،،پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ،عوامی ورکرز پارٹی ، پاکستان نیشنل پارٹی، انجمن ترقی پسند مصنفین اسلام آباد راولپنڈی اور خواتین محاذ اسلام آبادکے تعائو ن سے منعقد ہوا۔

مقررین نے کہا کہ ہتھیار بنانے اور خریدنے کی دوڑ میں پاکستان اور بھارت اب یورپی ممالک کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ یورپی ممالک نے پہلے اپنے عوام کو ترقی دی،جس سے عوام خوشحال ہوئے ، پاکستا ن اور بھارت کی سالانہ بجٹ میں خاصہ رقم دفاعی بجٹ کے لئے رکھ دیا جاتا ہے ، ان کا کہنا تھاکہ ہتھیار قومی سلامتی اور علاقائی امن کے لئے اسلحہ ضروری ہے لیکن پہلے عوام کو بہترین تعلیمی اور صحت سے متعلق سہولیا ت دیئے جائیں۔