سماجی مسائل کی نشاندہی اور سد باب کیلئے ادب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ڈاکٹر نظام الدین

ہفتہ مئی 20:36

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کہا ہے کہ ادب تخلیق کا نام ہے اور ادب کو معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنا اور مسائل کے حل تلاش کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی معاشرے کو درپیش مشکلات کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ انگلش لینگوئج اینڈ لٹریچر کے زیر اہتمام پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے شعبہ کے آڈیٹوریم میں "Counter balancing politics and aesthetics in Pakistani literature"کے موضوع پر منعقدہ پہلی نیشنل کانفرنس میں کیا۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ جبیں، پنجاب انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ ایڈیشنل سیکریٹری اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف آرٹس ثمن رائے ، چیئر پرسن شعبہ انگلش لینگوئج اینڈ لٹریچر ڈاکٹر عامرہ رضا،نامور آرٹسٹ، فیکلٹی ممبران اور طلبائو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ ریسرچ کو تحقیقی مجلوں میں شائع کر وا کر کیئرئیر ک فوائد حاصل کرنے کی بجائے اپنی تحقیقات کو سوسائٹی سے لنک کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے محققین کو سماجی مسائل کے خاتمے اور پالیسی سازی میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ سوشل سائنسز میں ہماری تحقیقات کاسماج سے رابط نہ ہوناایک المیہ ہے اور ایسی تحقیقات بے معنی بن جاتی ہے۔ انہوں نے محققین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق پر مبنی تحقیقی کام کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری اردوکمزور اور انگریزی زبان انتہائی کمزور ہے جس کیلئے لینگوئج لیب قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں تمام شعبہ جات کی کتابوں کافارسی میں ترجمہ کرایا جاتا ہے تاہم ہمیں بھی اعلیٰ معیا رکی کتب کا اردو میں ترجمہ کرانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تدریس، تحقیق اور زبان و ادب میں مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ایسی تقاریب اور ایونٹس کو سپورٹ فراہم کرتا رہے گا۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ جبیں نے کہا کہ جس موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے وہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر ابھرتا ہوا مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایسے مسائل کی نشاندہی کیلئے تعلیمی حلقوں میںبحث ہونی چاہیے اور دونوں میں توازن اہمیت کا حامل ہے۔

ڈاکٹر ثمن رائے نے کہا کہ انسداد توازن ایسی قوت ہے جو ہم روز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں اپنی ثقافت کو ترجیح دیتے ہوئے ادب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر عامرہ رضا نے کہا کہ شعبہ انگلش لینگوئج اینڈ لٹریچر کے زیر اہتما م سیمینارز اور ٹریننگ پروگرامز سمیت 59تقاریب کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں موضوع کی مناسبت سے 23محققین مختلف پہلوئوں پر اپنے مقالہ جات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے شرکاء کیلئے ایک دوسرے کے تجربات شیئر کرنے کا سنہری موقع ہی