شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ توسیع شد ہ مدت میں بھی نہ آنے کا امکان

تین میں سے ابھی ایک ریفرنس میں بھی جرح مکمل نہ ہوسکی سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی اضافی مدت رواں ہفتے مکمل ہوجائے گی،تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا

ہفتہ مئی 21:09

شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ  توسیع شد ہ مدت میں بھی نہ آنے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) احتساب عدالت کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز میں سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی توسیع شد ہ مدت میں بھی فیصلہ آنے کے امکانا ت کم ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں وکیل صفائی کی طرف سے نیب کے گواہان پر غیر ضروری سوالات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے ،ابھی ایک ریفرنس میں جرح مکمل نہ ہوسکی جبکہ فلیگ شپ انوسمنٹ اور العزیزیہ ریفرنس پر جرح ہونا باقی ہے۔

اسی طرح لندن فلیٹس ریفرنس میں استغاثہ کے وکیل نیب کے گواہان پر ابھی جرح مکمل نہیں کرسکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی اضافی مدت رواں ہفتے مکمل ہوجائے گی ۔ اس کے بعد العزیزیہ ،فلیگ شپ ریفرنسز میں گواہان پر بھی استغاثہ کے وکیل نے جرح کرنی ہے۔ نیب نے نواز شریف ، مریم نواز ، حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف ایون فیلڈ فلیٹس ، العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسمنٹ سے متعلق ریفرنسز دائر کیے تھے۔

(جاری ہے)

اب تک کیسز کی 72سماعتیں ہو چکی ہیں۔ نواز شریف 61بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں،اس دوران ا یک بار وہ لندن بھی جاچکے ہیں۔ ایون فیلڈ کیس میں خواجہ حارث نیب کے آخری گواہ پر اپنی جرح کررہے ہیں۔ اسکے بعد العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ میں نیب کے گواہ واجد ضیاء پر جرح ہونا باقی ہے۔ ملزمان کو بھی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں فریقین کے وکلاء کے حتمی دلائل ہوں گے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی اضافی مدت رواں ہفتے مکمل ہوجائے گی ۔ اس طرح اس مدت میں پاکستان کی تاریخ کے اس اہم کیس کا فیصلہ ہو نا ممکن نظر نہیں آرہا ہے ، احتساب عدالت کو دی گئی مدت میں پھر توسیع ہوسکتی ہے ۔ ان تینوں کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ ہی آنے کے امکانات ہیں۔ اگر ایون فیلڈ کا فیصلہ پہلے آتا ہے تو آئینی ماہرین کے مطابق میاں نواز شریف کو سزا ہوسکتی ہے، جس کا انہیں ادراک ہے اور وہ اپنی تقاریر میں کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ۔ قریب از قیاس ہے کہ تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔