دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آج کی دنیا کو بہت سے ابھرتے ہوئے چیلنجز پیچیدہ مسائل اور غیر روائتی خطرات کا سامنا ہے

جو دنیا کے امن اور سلامتی کیلئے کسی وباء سے کم نہیں ہے ‘ورلڈ آرڈر کو انسانی حقوق کے علم کو بلند رکھنے پر محیط ہونا چاہیے نہ کہ مفاد پرستی کی سیاست پر جس میں انجانے خوف اور جنگی جنون کے بادل منڈھلا رہے ہوں ‘اگر بین الاقوامی قانون کا صحیح نفاذ نہ کیا گیا تو دنیا ایک اور خوفناک بین الاقوامی جنگ میں لپیٹ میں آجائے گی صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان کا یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان-’’اکیسویں صدی میں سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کا بین الاقوامی حل‘‘کے شرکاء سے خطاب

ہفتہ مئی 21:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آج کی دنیا کو بہت سے ابھرتے ہوئے چیلنجز پیچیدہ مسائل اور غیر روائتی خطرات کا سامنا ہے جو دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے کسی وباء سے کم نہیں ہے ۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام لاہور میں دوروزہ سیمنار بعنوان-’’اکیسویں صدی میں سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کا بین الاقوامی حل‘‘کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس سیمینار کا انعقاد یونیورسٹی آف لاہور کے شوشل سائنسز کے شعبہ نے کیا تھا۔ صدر نے کہا کہ ورلڈ آرڈر کو انسانی حقوق کے علم کو بلند رکھنے پر محیط ہونا چاہیے نہ کہ مفاد پرستی کی سیاست پر جس میں انجانے خوف اور جنگی جنون کے بادل منڈھلا رہے ہوں ۔

(جاری ہے)

صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قانون کا صحیح نفاذ نہ کیا گیا تو دنیا ایک اور خوفناک بین الاقوامی جنگ میں لپیٹ میں آجائے گی۔

صدر نے کہا کہ آج بے شمار خطرات دنیا کو اپنی آغوش میں لئے بیٹھے ہیں جن میں دہشت گردی امن و امان کا مسئلہ جنگی ماحول اور سول نافرمانی کی تحریکیں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں ، جغرافیائی تغیرات ، فائبر جرائم ، پانی ، توانائی کا بحران ، خوراک کی کمی جیسے مسائل اور خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

صدر نے کہا کہ آج روائتی جنگ کے طریقہ کار تبدیل ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ ڈرائون نے لے لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی اور پانچویں نسل کے جنگی طریقہ کار نے دنیا کے ہیت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے ۔ صدر نے کہا کہ آج یورپ یہودیت اور اسلام سے خوف کھانے والے عناصر کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ صدر نے کہا کہ آج بد قسمتی سے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پس پشت چلے گے ہیں اور ان کی جگہ سٹرٹیجک ، معاشی اور سیاسی مفادات نے لے لی ہے ۔

صدر نے کہا کہ آج پاکستان کو ہندوستان سے افغانستان کی صورتحال سے دہشت گردی سے اور غیر اعلانیہ جنگوں سے خاطر خواہ خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خطرات کا دلجمعی اور استقامت سے حل ڈھونڈنے کی اہم ضرورت ہے ۔ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کو ہندوستان کی ہمیشہ دشمنی کا سامنا رہا ہے جو اپنے قریبی ممالک کے معاملات میں مسلسل دراندازی کرتا آیا ہے ۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کو آج غربت ، انسانی ترقی ، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کا رجحان ، معاشرتی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام جیسے جیلنجز بھی درپیش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اولین فرصت میں اور ترجیحی بنیادوں پر اپنی دانشمندانہ کاوشوں سے ان مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت میں بڑی بنیادی مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور ہمیں اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی اہداف حاصل کرنے ہونگے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادری راہداری کوئی نعم البدل تو نہیں لیکن یہ ہمارے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے اور ملکوں کے درمیان رابطوں کو تیز تر کرنے کے لئے بے پناہ ممد ومعاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے پاکستان کے لئے بے پناہ مواقع میسر آرہے ہیں پاکستان اور چین کامیابی سے سلامتی اور سیاسی اتفاق رائے اپنے اپنے ملکوں میں پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ آج کشمیر خطے اور دنیا میں ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور وہاں انسانی حقوق کے مسئلے کا فوری حل ڈھونڈنے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی برادری نے دوہرے معیار اپنا رکھے ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان پر دبائو ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے فوری طور پر باز آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی قابض ساتھ لاکھ افواج نے کالے قوانین کے سہارے ظلم و ستم ، تشدد ، آبروریزی کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں ۔ آج بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کو ان گھنائونے ہتھکنڈوں اور ظلم کا بازار گرم کرنے سے روکے۔ صدر نے آزادکشمیر کے آزاد کشمیر خطہ اپنے قدرتی حسن اور خوبصورتی کی وجہ سے سیر و سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کا بے پناہ رجحان اور سکوپ رکھتا ہے ۔

صدر نے کہا کہ آج آزاد کشمیر کی حکومت گڈ گورننس کو یقینی بنا رہی ہے اور ہم احتساب ، قانون کی حکمرانی اور شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اور تعلیم کے فروغ اور اس کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لئے بے پناہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے آزادکشمیر میں چار بڑے میگا منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں کروٹ پن بجلی کا منصوبہ، میر پور میں صنعتی زون کا قیام ، مانسہرہ مظفرآباد میرپور ایکسپریس وے اور کوہالہ میں پن بجلی کا بڑا منصوبہ شامل ہیں ۔

صدر نے کہا کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کی خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے ۔ ہمیں ایک دانشمندانہ خارجہ پالیسی بنانا ہو گی جس کے تحت ہمیں چین اور روس کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہو گا اور ہمیں امریکہ کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات میں بہتری لانا ہو گی۔ صدر نے کہا کہ آج اقوام متحدہ کو دنیا میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لئے صحیح معنوں میں کام کرنا ہو گا اور اقدامات اٹھانے ہونگے۔