جب بھی مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ،چھوٹے صوبوں کی عوام کیساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ روا رکھا،

پختونوں کی احساس محرومی کو دور کرنے کی بجائے جان بوجھ کرنظر انداز کیا گیا جو کسی بھی زیادتی سے کم نہیں، وفاقی حکومت نے پختونوں کیساتھ تعصبانہ رویہ ترک نہ کیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے ،چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب احمد شیرپائو

ہفتہ مئی 21:26

جب بھی مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ،چھوٹے صوبوں کی عوام کیساتھ سوتیلی ماں ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا ہے کہ مرکزمیں جب بھی مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ،چھوٹے صوبوں باالخصوص خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ روا رکھا، پختونوں کی احساس محرومی کو دور کرنے کی بجائے جان بوجھ کرنظر انداز کرکے اس میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو کسی بھی زیادتی سے کم نہیں، اگر وفاقی حکومت نے پختونوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ ترک نہ کیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے جو کہ وفاق کے مفاد میں نہیں۔

وہ پشاور کے گائوں ریگی میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر خلیل نامہ کے نامی گرامی سیاسی و سماجی شخصیت فلک نیاز خان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں اور خاندانوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی قائد کی قیادت اور پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

آفتاب شیرپائو نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں اور وہ اپنی ضرورت سے زیادہ وسائل پیدا کرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے،مرکزی حکومت نے ہمیشہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک اور غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا ہے، لامحدود وسائل کے باوجود صوبہ کے عوام کو سوئی گیس ،،تیل ، بجلی اور سی پیک کے ثمرات سے محروم رکھا گیاجوکہ ایک بہت بڑی ناانصافی ہے اور اس کیلئے مرکزی حکومت یہاں کے عوام کو جوابدہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پختونوں کے ساتھ غیر مساوی رویہ اس بات سے عیاں ہے کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں ان کے ساتھ انتہائی زیادتی روا رکھی گی اور یہاں کے تاجروں کے بجائے پنجاب کے تاجروں کو ہر چیز میں فوقیت دی گئی جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔انھوں نے مرکز میں جاری سیاسی چپقلش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد میں اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور سیاسی معاملات میں اداروں کو گھسیٹنا جمہوری روایات کے شایان شان نہیں،پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ ن لیگ کو مرکز میں حکومت عوام کے ووٹ کے ذریعے نہیں ملی ۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست اقدار سے ہٹ کر ہے اور گا لی گلوچ کی سیاست کو فروغ دینا پارلیمنٹ کیلئے باعث ندامت ہے۔انھوں نے کہا کہ جمہوریت کے تسلسل کیلئے ضروری ہے کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا کردار اداکرنا گا،،عمران خان کی جانب سے کسی بھی ادارے پر الزام لگانا زیب نہیں دیتاکیونکہ اس سے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوئی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انھوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے گیارہ نکاتی منشور کا اعلان مضحکہ خیز ہے کیونکہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت انھوں نے صوبہ میں تو ان گیارہ نکات کو فروغ کیوں نہیں دیا انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے اگر یہ گیارہ نکات پیش کئے جاتے تو وہ اس کا صحیح جواب دے سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جن گیارہ نکات کا خیبر پختونخوامیں کوئی نام و نشان نہیں وہ ان نکات پر اب پورے ملک میں کس طرح عملدرآمد کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے عوام باالخصوص خیبر پختونخوا کی آبادی جن سے پی ٹی آئی نے تبدیلی کے نام پر ووٹ بٹورے ان پران کے اصل چہرے عیاں ہو چکے ہیں،پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ ،الزام تراشی،گالی گلوچ اورمنفی ہتھکنڈوں کے سوا کچھ نہیں جنھوں نے اپنی کم فہمی اور سیاسی بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ میں مسائل کے انبار کھڑے کر دیئے ہیں جس سے اب نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں ممالک خطہ میں امن کے قیام کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھنی چاہیے کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا تب تک پاکستان میں بھی امن کا قیام ممکن نہیں۔انھوں نے اسلام آباد اور کابل پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ باہمی تعلقات کی بہتری کیلئے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو،صوبائی جنرل سیکرٹری ہاشم بابر،صوبائی سیکرٹری انفارمیشن طارق احمد خان،دیگر مرکزی و صوبائی رہنماء اور ضلع پشاور کے چیئرمین و جنرل سیکرٹری کے علاوہ دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔