جعلی بھرتیوں کے معاملے پر نیب نے سابق سیکشن آفیسر (جنرل )سمیت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اکائونٹنٹ جنرل آ فس کی21 افسران کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر کرادیے ،ملزمان نے قومی خزا نے کو 21کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا یا ،نیب

ہفتہ مئی 21:44

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) محکمہ تعمیرات ومواصلات بلوچستان میں جعلی بھرتیوں کامعاملہ ،نیب نے سابق سیکشن آفیسر (جنرل )سمیت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اکائونٹنٹ جنرل آ فس کی21 آ فیسران کیخلاف ایک اور ضمنی ریفرنس دائر کرادیے ،ریفرنس میں نا مزدملزمان پر قومی خزا نے کو 21کروڑ 52لاکھ 61ہزار 283روپے کا نقصان پہنچا نے کا الزام ہے ۔

ریفرنس گزشتہ روز نیب بلو چستان کے حکام کی جا نب سے احتساب عدالت کوئٹہ II میں جمع کرائے گئے جس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سابق سیکشن آفیسر (جنرل) افتخار علی ،بی اینڈ آر سرکل کوئٹہ کے عبدالمنان خان ،ڈی ڈی او مینٹیننس تھری کوئٹہ میرمحی الدین ،محمد سعود بگٹی ،رشید احمد خواجہ خیل ،ڈی ڈی او زسبی زون بشیراحمد ،محمدرفیق خان ،ڈی ڈی او ڈیزائن سیل محمد اسلم ،ڈی ڈی او ز خضدار زون محمد جمیل احمد اورمحمدیونس ،ڈی ڈی او پروجیکٹ ون کوئٹہ فیض محسن ،ڈی ڈی او آر ایم یو سی اینڈ ڈبلیو کوئٹہ محمد ایوب ناصر ،ڈی ڈی او ای اینڈ ایم سرکل سی اینڈڈبلیو محمدفاروق مینگل ،ڈی ڈی او بی اینڈآرٹو خلیل الرحمن ،ڈی ڈی او ای اینڈ ایم ورکشاپ سی اینڈ ڈبلیو کوئٹہ نذیر احمد ،محمدعارف ،سینئر آڈیٹر اے جی آفس بلوچستان اعجاز احمد درانی ،اسسٹنٹ اکائونٹ آفیسرز اے جی آفس بلوچستان سکندر عالم ،عبدالرسول ،اکائونٹ آفیسر ز اے جی آفس محمد حسین اور عباس رضا کو نامزد کیاگیاہے ۔

(جاری ہے)

مذکورہ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے گیس اور مینٹیننٹس ڈویژن سمیت دیگر شعبوں میں 282ملازمین غیر قانونی طورپر بھر تی کیا جن کی تنخواہوں کی مد میں قومی خزانے کو 21کروڑ 52لاکھ 61ہزار 283روپے کا نقصان ہواہے ،اس سے قبل بھی سابق سیکشن آفیسر جنرل افتخار علی اور دیگر کے خلاف 6اپریل 2016ء کو 129افراد کو سی اینڈڈبلیو کے گیس اور مینٹیسنس ڈویژن میں تعینات کرنے کے الزام میں عبور ریفرنس دائر کی گئی تھی اور انہیں غیر قانونی طور پر بھرتی کئے گئے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں قومی خزانے کو ایک کروڑ24لاکھ 4ہزار 433روپے نقصان پہنچانے کاالزام عائد کیاگیاتھا اس کے بعد بھی بعض نا مزد ملزمان کیخلاف ایک اور سپلیمنٹری ریفرنس دائر کی گئی تھی جس میں ان پر 107افراد کوغیر قا نو نی طو ر پر گیس اور مینٹیننس ڈویژن میں بھرتی کرنے اور قومی خزانے کو 5کروڑ 8لاکھ 70740روپے نقصان پہنچانے کاالزام عائد کیاگیاتھا اس کے بعد دوسرے سپلیمنٹری ریفرنس میں 151ملازمین کو سی اینڈڈبلیو میں غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے اور ان کی تنخواہوں کی مد میں قومی خزانے کو 15کروڑ 19لاکھ 86110روپے نقصان پہنچانے کاالزام عائد کیا گیاتھا اس وقت سپلیمنٹری ریفرنس میں نامزد ملزمان پر282افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرکے قومی خزانے کو ان کی تنخواہوں کی مد میں 21کروڑ 52لاکھ 61283روپے نقصان پہنچانے کاالزام ہے ۔