اٹک، خودکش دھماکہ کا مقدمہ درج

ہفتہ مئی 21:48

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) تھانہ صدر اٹک کی حدود بسال روڈ ڈھوک گاما کے قریب خودکش دھماکہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ 57 سالہ سعید شاہ ولد روان شاہ قوم خٹک سکنہ ترقی خیل ضلع کرک حال مقیم محمد نگر اٹک کینٹ کی مدعیت جبکہ استغاثہ مرتبہ مرسلہ ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی اٹک انسپکٹر خان شبیر نے مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی راولپنڈی میں درج کرایا مقدمہ میں قتل ، اقدام قتل ، سازش مجرمانہ اور دہشتگردی دفعات شامل ہیں سعید شاہ نے تحریر کیا ہے کہ وہ گاڑی نمبر XA-160 کوسٹر پر سوار ہو کر بسال کی جانب سے اٹک شہر جا رہے تھے اس کے علاوہ 14/15 افراد گاڑی میں سوار تھے گاڑی ڈرائیور محمد اکرم نیازی چلا رہا تھا جب گاڑی ساڑھے 4 بجے ڈھوک گاما سڑک پر بنے ہوئے سپیڈ بریکر پر پہنچی تو اچانک ایک نوجوان نے گاڑی کے سامنے آ کر گاڑی پر پسٹل سے فائر کیا اس نوجوان کے ساتھ 2 نوجوان افراد بھی کھڑے تھے جو موقع سے فرار ہو گئے جن کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہوں اور ساتھ ہی نوجوان شخص نامعلوم خودکش بمبار نے ڈرائیور سائیڈ سے اپنے آپ کو گاڑی سے ٹکرا دیا جس کے نتیجہ میں زور دار دھماکہ ہو گیا دھماکہ میں ڈرائیور محمد اکرم نیازی اور راہ گیر حبیب خان سکنہ ڈھوک گاما جاں بحق ہو گئے میں اور گاڑی میں دیگر سوار اور راہ گیروں سمیت 19 افراد شدید زخمی ہو گئے دھماکہ کی آواز سن کر اہل علاقہ کے کافی لوگ آ گئے جنہوں نے امدادی کاروائیاں شروع کر دی خودکش بمبار کے ٹکڑے دور دور تک جا گرے ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ، انتظامیہ کے افسران ، اہلکاران بھی موقع پر پہنچ گئے موقع پر موجود لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال اٹک پہنچایا خودکش حملہ میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی اٹک انسپکٹر خان شبیر اور ان کے ہمراہ اے ایس آئی محمد الطاف ، راشد محمود ، عالم زیب ، مجاہد حسین ، حوالدار ظہیر احمد ، کانسٹیبلان محمد عرفان ، علی اصغر ، حافظ ذیشان ، اطہر بلال ، محمد سہیل ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچے سعید شاہ نے زخمی حالت میں بیان دیا اس حادثہ میں 2 افراد ، کوسٹر ڈرائیورمحدم اکرم نیازی اور راہ گیر حبیب خان شہید ہو گئے جن کا پوسٹ مارٹم کرانے کیلئے اے ایس آئی عالم زیب کو درخواست پورٹ مارٹم نقشہ صورتحال الگ الگ مرتب کر کے حوالے کیے گئے تمام زخمیوں کے الگ الگ نقشہ جات مضروبی مرتب کر کے کانسٹیبل محمد اصغر کے حوالے کیے گئے ان حالات کے نتیجہ میں زیر دفعہ 302/324/120-20 ت پ ، 3/4ESA ایکسپلوزیو ایکٹ ت پ اور 7ATA ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ علاقہ بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے خودکش بمبار کے جسموں کے حصے فرانزک لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ فنگر پرنٹس کے لئے نادرہ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں ضلع بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ہیو ی مشینری کے ذریعہ بس کو کرین کے ذریعے اٹھا کر محفوظ مقام پر محفوظ کر دیا گیا ہے ۔