معاشرے قانون کی حکمرانی سے کامیابی حاصل کرتے ہیں، آئین کی کمانڈ یہی ہے کہ ملک منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی چلایا جائے گا،چیف جسٹس

بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے اسلئے عدلیہ کے ہوتے ہوئی کوئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے، آٹھویں جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطا ب

ہفتہ مئی 21:54

معاشرے قانون کی حکمرانی سے کامیابی حاصل کرتے ہیں، آئین کی کمانڈ یہی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ معاشرے قانون کی حکمرانی سے کامیابی حاصل کرتے ہیں، آئین کی کمانڈ یہی ہے کہ ملک منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی چلایا جائے گا۔بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے اس لئے عدلیہ کے ہوتے ہوئی کوئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے اسلام آباد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ آٹھویں جوڈیشل کانفرنس کے اختتامی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پر تمام ساتھی ججز کا مشکور ہوں ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمت ہیں کہ پاکستان کا آئین تحریری صورت میں ہے جوآئین قانون کی حکمرانی کے اصول وضع کرتا ہے ،قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں جا سکتی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے جبکہ آئین کے ان احکامات کی پابندی کرنا سب پر لازم ہے شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے قرآن پاک اور الہامی کتابوں کے بعد آئین سب سے مقدس کتاب ہے ججز نے آئین پر روح کے مطابق عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے ججز کسی صورت اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے اس لئے عدلیہ کے ہوتے ہوئی کوئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پرہی از خود نوٹس لیاجاتا ہے یاپٹیشن پر کاروائی کی جاتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہاکہ آئین کی خلاف ورزی پر عدالت کو جائزہ لینے کا اختیار ہے آئین کیخلاف ورزی قانون ساز کریں یا انتظامیہ عدالت جائزہ لے سکتی ہے عدلیہ پر پہلے ہی بہت بوجھ ہے۔

ججز کی تعداد بڑھانے سے بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتاتنازعات کے حل کے متبادل نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔متبادل نظام ملکی زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بابا رحمتے لوگوں کے تنازعات حل کرتا ہے بابا رحمتے کو فیصلے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا ان کا کہنا تھا کہ متبادل نظام انصاف (اے ڈی آر) سسٹم میں عدالت پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کہا جاتا ہے عدالت کے کئی فیصلے آپس میں متضاد ہیں متضاد فیصلوں سے ماتحت عدلیہ کو مشکلات پیش آتی ہیں وکلا ایسے فیصلوں کی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا حل ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ ہفتے سات رکنی لارجر بنچ فوجداری قانون سے متعلق سماعت کرے گا لا اینڈ جسٹس کمیشن نظام انصاف میں اصلاحات کی کئی سفارشات کر چکا ہے سفارشات تاحال ایگزیکٹو فورم پر زیر التوا ہیں اس لئے اٹارنی جنرل معاملے کا جائزہ لیکر سفارشات پارلیمنٹ کو بھجوائیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ آخر میں اہم اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میںعملدرآمد نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے آج تک ہونے والی جوڈیشل کانفرنسز کی سفارشات پر عمل نہیں ہوا،کئی گھنٹوں کی محنت سے آج بھی سفارشات تیار کی گئی ہیں ان سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے فاضل ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو چار ماہ میں کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ کمیٹی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس فائز عیسی، جسٹس عمر عطابندیال،جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔ن