ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کیلئے ذاتی مفاد میں استعمال نہ کیا جائے ،نوابزادہ میر سراج رئیسانی

میاں صاحب اب جس راستے پر چل پڑا ہے یہ ان کے لئے تباہی وبربادی کاراستہ ہے،نوازشریف بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ہوا میں تیر چلاتے ہیں،چیئرمین متحدہ محاذ

ہفتہ مئی 21:55

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین وپاکستان پرست رہنماء نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے کہا ہے کہ نوازشریف جس خلائی مخلوق کی بات کر کے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر واقعی خلائی مخلوس انتخابات اور حکومتیں بنانے میں ملوث ہے جب یہ اقتدار میں آتے تھے تو اس وقت خلائی مخلوق کہا ں تھی میاں صاحب اب جس راستے پر چل پڑا ہے یہ ان کے لئے تباہی وبربادی کا راستہ ہے ہم سمجھتے ہیں ہے کہ ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے لئے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہ کیا جائے اور نوازشریف بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے اور وہ ہوا میں تیر چلاتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساراوان ہائوس میں مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ خلائی مخلوق کس کو کہتے ہیں اور وہ کسی کو براہ راست کیوں ٹارگٹ کر رہے ہیں یہ غلط ہے اور جس طرح وہ سیاست کو فروغ دے رہے ہیں اور جس راستے پر چل پڑا ہے یہ ان کی تباہی وبربادی کا راستہ ہے جب35 سال پہلے یہی خلائی مخلوق کو ان کو سیاست کا راستہ دکھایا اور یہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ملک کے وزیراعظم بنے تو اس وقت خلائی مخلوق کی بات کیوں نہیں کر تے تھے جب پران پر سیاست کے دورازے اپنی ہی وجہ سے بند ہوئے ہیں تو یہ خلائی مخلوق کے خلاف بات کرنے لگے ہیں ان کو یہ بات نہیں بولنا چا ہئے جب یہ کونسلری کی سیٹ نہیں جیت سکتے تھے اب جب وہی خلائی مخلوق کی وجہ سے ملک کے وزیراعظم بنے تو آج ان کو خلائی مخلوق کے خلاف باتیں کرنے لگے انہوں نے کہا ہے کہ اتنے بڑے سیاسی شخصیت کو اس طرح باتیں زیب نہیں دیتے ہیں کہ وہ اس طرح الفاظ استعمال کرے میاں صاحب اپنے ہار کو تسلیم کر کے اس طرح باتیں کرنے لگے میاں نوازشریف بو کھلاہٹ شکار ہے اور عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں ابھی سے پتہ چل پڑا ہے اس لئے وہ اس طرح باتیں کرنے لگے ہیں اور وہی خلائی مخلوق نے ان کو عام انتخابات کے بارے میں آگاہ ہے اس لئے وہ خلائی مخلوق کی بات کر کے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے اب بہانے ڈونڈ رہے ہیں مگر ملک کے عوام بے وقوف نہیں ہے کہ وہ اب ان کے بہکاوے میں آکر ان کو ووٹ دینگے ۔