ڈی جی پی آر کے 19معطل ملازمین کو ذاتی شنوائی کے نوٹس جاری

غنڈہ گردی اور ہنگامہ آرائی سے حکومتی ادارے پر دبائو نہیں ڈالا جا سکتا‘ خاتون افسران کی عزت نہ کرنے والے اور بدتمیزی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی‘ ترجمان محکمہ تعلقات عامہ

ہفتہ مئی 22:18

لاہور۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میںمس کنڈکٹ ، سرکاری املاک کی توڑپھوڑ، کارسرکارمیں مداخلت، ہنگامہ آرائی ، غنڈہ گردی، افسران بالخصوص خاتون افسران سے بدتمیزی اورانہیں ہراساں کرنے اورملازمین کواشتعال دلاکر افسران اور سرکاری گاڑیوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت معطل 19ملازمین کو شوکاز نوٹس کے بعد ذاتی شنوائی کے نوٹس بھی جاری کردئیے گئے ہیں ۔

ذاتی شنوائی کے نوٹس 8مئی کیلئے جاری گئے ہیں اور ذاتی شنوائی کیلئے سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ڈی جی پی آر کے ترجمان نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کے ارکان قانون کے مطابق معطل شدہ ملازمین کا موقف سننے کے بعد ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کی نوعیت کی روشنی میں کریں گے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے مزید بتایا مس کنڈکٹ ، سرکاری املاک کی توڑپھوڑ، کارسرکارمیں مداخلت، ہنگامہ آرائی ، غنڈہ گردی، افسران خصوصی طور لیڈی افسران سے بدتمیزی اورانہیں ہراساں کرنے اورملازمین کواشتعال دلاکر افسران اور سرکاری گاڑیوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچانے کے مرتکب جن اہلکاروں کو ذاتی شنوائی نوٹس جاری کئے گئے ہیں ان میں واصف حمید اسسٹنٹ، محمد تصور سینئر کلرک، عاطف اسلم سینئر کلرک، مشتاق علی سٹینوگرافر، شوکت علی وٹو، خالد فیروز آپریٹر، مجیب اسلم آپریٹر،محمد عباس آپریٹر، مرزا صغیر احمد ٹیلیکس آپریٹر، محمد ریاض جونیئر کلرک، ارشادرشید نائب قاصد،عمر خان نائب قاصد، وسیم اختر ڈرائیور،، علی رضا ڈاک رنر،محمد دلاور چوکیدار، احسن اقبال ہیلپرشامل ہیںجبکہ انہی الزامات کے تحت جرارعباس ڈارک روم اٹینڈنٹ اور حمزہ باجوہ ڈرائیورکو نوکری سے پہلے ہی برطرف کیا جاچکا ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ دفتر کے سٹاف کو فول پروف سکیورٹی مہیا کر دی گئی ہے اور انہیں غنڈہ یونین سے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔غنڈہ گردی اور ہنگامہ آرائی سے حکومتی ادارے پر دبائو نہیں ڈالا جا سکتا۔جن ملازمین کی نظر میں لیڈی افسران کی کوئی عزت نہیں اور وہ ان سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں ایسے عناصرکے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ کئی معطل ملازمین نے معافی کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے اورمستقبل میں مظاہروں اورتخریبی سرگرمیوںمیں حصہ نہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم ان کے بارے میں اعلی سطحی کمیٹی ان پر الزامات کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔