کپاس کی منافع بخش پیداوار کے حصول کیلئے وہاڑی میں سیمینار کاانعقاد

ہفتہ مئی 23:04

وہاڑی۔5 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) خریف کی اہم فصل کپاس کی منافع بخش پیداوار کے حصول کیلئے وہاڑی میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد کاشتکاروں کو کپاس کی نئی اقسام، مختلف کاشتی امور ، کھادوں کے متوازن استعمال اور کیڑے مکوڑوں کے انسداد کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔سیمینار کے مہمان خصو صی ڈائریکٹرکاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتا ن زاہد محمود تھے جس میں قریبا 100کاشتکاروں نے شرکت کی جس سے ڈائریکٹرکاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتا ن زاہد محمود نے کھادوں کے متوازن اور باکفایت استعمال پر لیکچردیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں فصلوںکی کم پیداوار کی بڑی وجہ کیمیائی کھادوں کا غیرمتوازن اِستعمال ہے۔

کھادوں کے متناسب اور بروقت استعمال سے کپاس سمیت دیگر تمام فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار کو باآسانی بڑھایا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اٴْنہوں نے کاشتکاروں کو بتایا کی کپاس کی فصل کو اپنی بڑھوتری مکمل کرنے کیلئے 80 کلو نا ئٹروجن ، 45کلو فاسفورس درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غذائی اجزاء کی یہ مقدار پونے تین بوری یوریا اور دو بوری DAPسے پوری کی جاسکتی ہے۔

مزید یہ کہ یوریا اور ڈی اے پی نائٹروجن اور فاسفورس کا سستہ ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوریا اور ڈی اے پی کے استعمال سے فی ایکڑ3000 - 3500روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس افواہ کی تردید کی کہ یوریا کھاد کپاس میں وائرس کا سبب ہے۔ انہوں نے سفارش کی محکمہ زراعت (توسیع) حکومت پنجاب کے مطابق وائرس سے متاثرہ فصل کو 15 سی20دن کے وقفے سے یوریا دیں اور پانی کی کمی نہ آنے دیں تاکہ فصل دوبارہ سے بڑھوتری کی طرف گامزن ہو سکے۔

تجزیہ اراضی کی بنیاد پرزنک اور بوران کی کمی کی صٴْورت میں زنک سلفیٹ (21فیصد) بحساب 10کلو گرام فی ایکڑاور سونا بوران (11.3فیصد) بحساب3 کلو گرام فی ایکڑ دیں۔انہوں نے کاشتکاروں سے گزارش کی کہ کپاس کی بہتر پیداوار لینے کیلئی20 - 25دن کے بعدے یوریا کھاد کی ایک بوری فی ایکڑ کے حساب سے کریں۔ پھول اور ٹینڈے نکلنے کے مرحلے پر کپاس کو مناسب مقدار میں یوریا ڈالیں تاکہ پودے کے پتے سبز مادہ بنائیں اور زیادہ خوراک بنا کر اپنے اوپر لگنے والی پھل گڈی اور ٹینڈوں کو صحتمند نشونما کا موقع فراہم کر سکیں۔

اگر پھول اور ٹینڈوں کے مرحلے پر فصل کو یوریا نہ ڈالی گئی تو نہ صرف یہ کہ فصل کا قد چھوٹا رہ جائے گا بلکہ خوراک کی کمی کے باعث کپاس پھل گڈی کا کیرا شروع کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ فصل کو غیر ضروری بڑ ھوتری سے بچانے کیلیے ہمیشہ یوریا ہر 15دن بعد آدھی بوری فی ایکڑ کے حساب سے یا زیادہ اقساط میں استعمال کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وائرس سے متاثرہ فصل پر2 کلو فی ایکڑ کے حساب سے یوریا کھاد کا اسپرے کرنا چاہیے۔

اس مقع پرڈاکٹر رابعہ سعید نے نقصان دہ کیڑوں کے انسداد پر سیر حاسل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کیڑے کے حملے اور اس کے نقصان کی معاشی حد کا اندازہ لگانے کا واحد ذریعہ پیسٹ سکائو ٹنگ ہے۔ کاشتکار اس مرحلے پر ہر تیسرے دن پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور سفید مکھی ، تھرپس ، تیلے اور گلابی سنڈی کا بروقت اسپرے محکمہ زراعت (توسیع ) کے متعلقہ زرعی آفیسر کے مشورے سے فورا کریں۔ اسپرے میں تاخیر فصل کو ناقابل تلافی نقصان کا موجب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک زہر کو بار بار استعمال نہ کریں اور نئی کیمیا کی ادویات استعمال کر کے نقصان دہ کیڑوں کا دیر پا کنٹرول حاصل کریں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :