تمام متعلقہ اداروں اور اضلاع کو مشترکہ طور پر کام کرکے پولیو کی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرناہوگا ، کمشنر سکھر

ہفتہ مئی 23:04

سکھر۔ 5مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے کہا ہے کہ کراچی کے بعد اندرون سندھ پولیو کے حوالے سے حساس ہے اس لئے تمام متعلقہ اداروں اور اضلاع کو مشترکہ طور پر کام کرکے پولیو کی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرناہوگا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار یہاں پولیو کے خاتمے کے لئے بنائی گئی سکھر ڈویژنل ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی پی سی آرمیں ایکٹیوٹی لاگ بک بنائی جائے اور اس کو فعال کیا جائے ،ای ڈی سی یا اسسٹنٹ کمشنر کی زیر صدارت روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کو یقینی بنایا جائے اور ڈی سی بھی ڈی پی سی آرکو وقت دیں ،جبکہ ڈی پی سی آرکا ماحول پر سکون بنایا جائے اور آنے والوں کوسہولیات دی جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کی حیثیت سے کام کیا جائے اور جس سے جو بھی کام لیا جائے اس کا اختیار اورذمیہ داری ای ڈی سی اور ڈی ایچ اوز کی ہو گی جبکہ ضلعی پولیو کمیٹی اور سکھر ڈویژنل ٹاسک فورس کے احکامات اور فیصلوں پر عمل در آمد نہ کرنے والے اداروںاور افسران کو آخری وارننگ دی جائے بعد ازاں ان کے خلاف اعلیٰ حکام کو لکھا جائے ۔

کمشنر سکھر نے کہا کہ ڈی پی سی آر کے مس فیلڈ کے متعلق پلان بنایا جائے اور ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو حد بندیوں اور سرحدی علاقوں میں جاکر فنگر مارکنگ اور مارکیٹ سروے کے بعد رپورٹ فراہم کرے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچائو کے قطرے پینے سے رہ نہ جائے ۔اسی طرح نئی مردم شماری کے بعد بڑھ جانے والی یونین کائونسلز کے متعلق پلان بھی بنایا جائے ۔

کمشنر سکھر محمد عثمان چاچڑ نے ہدایت کی کہ روٹین امونائیزیشن پر زیادہ دھیان دیا جائے ۔ جبکہ خسرہ کی وجہ سے اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر سکھر نے کہا کہ خسرہ پر کنٹرول کے لئے خاص اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ ویکسینیشن کے سلسلے میںکوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوںنے کہا کہ ویکسینیٹرز سے کام لیا جائے اور جو کام نہ کرے اس کے خلاف کارروائی کی جائے ،ویکسینیٹرز اور پولیو ورکر کو جدید سافٹ ویئر سے مانیٹر کیا جائے ۔

کمشنر سکھر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیو کنٹرول روم میں شامل تمام متعلقہ ادارے باہم رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط کریں اور غلطیوں کی نشاندہی کر کے ان کو مقامی صطح پر حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔انہوں نے ہدایت کی کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پولیو ٹیمزکو ٹوپیاں ،چھتریاں اور منرل واٹر کی بوتلوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ،اس سلسلے میں روٹری کلبز اور این جی اوز سے بھی مدد لی جائے جبکہ ٹرانزٹ پوائنٹس پرپولیو ٹیموں کے بیٹھنے کا مناسب انتظام کیا جائے ، انہوں نے فوکل پرسنز کو ہدایت دی کہ تمام فوکل پرسن دھیان میں رکھیں کے صرف نمبر پورے نہیں کرنے کوئی بھی علاقہ مس نہ ہونے دیں ،ایریا کوریج پر مزید دھیان دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جگہوں سے آنے والے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ ان کا ریکارڈ بھی رکھا جائے تاکہ مستقبل میں فائدہ ہو۔ جبکہ چھوہارہ مارکیٹ اور دیگر جگہوں پر مزدوری کے لئے آنے والے قبیلوں کی جامع منصوبہ بندی کی جائے ۔کمشنر سکھر ڈویژن نے کہا کہ ویکسین ختم ہونے کی اطلاع ڈی پی سی آر کو دی جائے اور معاملات کو چھپایا نہ جائے جبکہ ڈیش بورڈپر صحیح رپورٹ دی جائے اور غلط اعداد شمار سے مکمل گریز کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے بعد اندرون سندھ پولیو کے حوالے سے حساس ہے اس لئے اس پر مزید محنت اور دھیان دینے کی ضرورت ہے اس ضمن میںمتعلقہ ادارے اور ورکرز اپنا کام پورا کرکے وقت پر ڈش بورڈ پر رکھیں ۔انہوں نے ہدایت کی کہ یونین کو نسل کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں ایس ایچ اوز کی حاضری کو بھی یقینی بنایا جائے ،جبکہ ہائی رسک اور کمزور یونین کونسلز میں زیادہ کام کیا جائے ۔