کوئٹہ،آل پاکستان انٹرنیشنل پروفیشنل بار کونسلز ریلیشنگ کمیٹیز کا اجلاس ، اہم فیصلے ،قراردادیں منظور

ہفتہ مئی 23:48

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) آل پاکستان انٹرنیشنل پروفیشنل بار کونسلز ریلیشنگ کمیٹیز کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد ہوٹل ریڈیسن میں زیر صدارت جاوید سلیم شورش چیئرمین بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اسلام آباد بار کونسل منعقد ہوا جس میں وائس چیئرمین فیاض احمد جندران، قاضی رفیع الدین، بابر چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی، سید واجد علی گیلانی،، چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی، ہارون الرشید، لیگل ایجو کیشن کمیٹی اسلام آباد بار کونسل، بجکہ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین جا محمد یونس اور دائود وینس چیئرمین بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور ممبران بار کونسل محترمہ فرح اعجاز بیگ، عبدالغفار ، غلام مصطفی جونی، رانا انتظار ھسین جبکہ بار کونسل سے وائس چیئرمین، حاجی عطاء اللہ لانگو، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راعب خان بلیدی، ممبر بار کونسل ملک خالق داد اعوان ، سید زاہر جمال باچہ، شا ہجہان خان صوابی اور دیگر نے ممبران نے شرکت کی اجلاس میں بار کونسل رولز ملک کے اندر موجودہ جوڈیشل سسٹم ، میرٹ کی پامالی، جوڈیشل کانفرنس میں سندھ بار کونسل کے ساتھ چیف جسٹس سندھ ہائی کے رویہ ودیگر اہم مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی اور اجلاس میں مختلف قراردادیں بھی پاس کئی گئیں اور اہم فیصلے کئے گئے اجلا س میں مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ملک بھر میں کرپشن،، جوڈیشری میں اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتوں میں ججز کی تقرری میں میرٹ کی پامالی اورمن پسند افراد کی تعیناتی اور سینئر ججز کو نظرانداز کر تے ہوئے جو نیئر ججز کو تعینات کرنے کی سخت مذمت کی گئی اور جوڈیشل کانفرنس میں دیگر مسائل بجائے جوڈیشری معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اجلاس میں سندھ بار کونسل کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر تے ہوئے قرارداد دیا کہ سندھ بار کونسل کے اصولی موقف اختیار کرنے کے باوجود سندھ ہائیکورٹ کے چوتھے نمبر پر تعینات جسٹس منیر اختر سپریم کورٹ کا جج مقرر کر نا الجہاد ٹرسٹ میں کیس میں طے کر دہ اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے گزشتہ دنوں سندھ ہائیکورٹ کے مذکورہ جج کے اعزاز میں دیئے جانیوالے والی فل کورٹ ریفرنس میں سندھ ہائیکورٹ کو مدعو کیا گیا اور پھر اس دعوت نامے کو واپس لیا گیا جسے تمام بار کونسلز نے مسترد کر تے ہوئے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اجلاس میں اسلام آباد کے اندر سول کیسز میں جرمانے کے قانون جیسے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے قراردادیا کہ کیسز میں میں تا خیر کی وجہ وکلاء ہی نہیں بلکہ بعض اوقات ججز اور دیگر عوامی بھی ہو تے ہیں تاخیر الزام وکلاء پر دینا اور ضابطہ دیوانی میں ہونیوالے اس ترمیم کو مستر د کر تے ہوئے اس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔