تارکین وطن کے مخالف ملک ہنگری کو ہنرمند تارکین وطن کی اشد ضرورت

اتوار مئی 10:20

بڈاپسٹ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت، بے روزگاری کی شرح بھی کم لیکن ہنر مند افراد کی شدید ضرورت بھی۔ امیگریشن کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والے یورپی ملک ہنگری کو درپیش یہ مسئلہ مزید شدت بھی اختیار کر سکتا ہے۔بوڈاپیسٹ کے نواح میں واقع ایک فیکٹری کی2008 میں ملازمین کی کٴْل تعداد صرف 11 تھی لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

بوڈاپیسٹ میں اس کمپنی کے مینیجر کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث انہیں مزید ہنرمند افراد کی ضرورت ہے لیکن انہیں کاریگروں کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔رواں برس کے آغاز میں ہنگری میں بے روزگاری کی شرح محض 3.8 فیصد تھی۔دوسری جانب بوڈاپیسٹ حکومت نے حالیہ برسوں کے دوران ملک میں کم از کم اجرت میں بھی مسلسل اضافہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اسی وجہ سے ٹیکنیکس سرفسز کمپنی کے ملازمین کی موجودہ تنخواہ 2011 کے مقابلے میں40 فیصد زیادہ ہے۔

ہنگری نے خاص طور پر غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مائگریشن پالیسی نہایت سخت کر رکھی ہے۔ دوسری جانب پوڈاپیسٹ حکومت رومانیہ، سربیا اور یوکرائن جیسے ممالک سے سستی لیبر بھی اپنے ہاں لانے میں کچھ خاص کامیاب نہیں ہو پائی۔ہنرمند غیر یورپی تارکین وطن ہنگری کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ لیکن 2015 میں یورپ میں مہاجرین کا بحران شروع ہونے کے بعد سے وکٹور اوربان نے مہاجرت کے حوالے سے انتہائی سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ہنرمند افراد کی قلت کے سبب ہنگری میں کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی ادارے تاہم غیر یورپی ہنرمند افراد کو ملازمتیں دینے کی بھرپور خواہش رکھتے ہیں۔