یونان میں دومہاجرین گرپوں کے درمیان جھگڑا ،17سالہ تارک وطن ہلاک

ْیونانی جزیروں سے تارکین وطن کی منتقلی کا حکومتی فیصلہ،وزیرمہاجرت کا لیسبوس جزیرے کا دورہ

اتوار مئی 12:40

ایتھنز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) یونانی حکومت نے لیسبوس اور دیگر جزائر کے حراستی مراکز میں موجود تارکین وطن کو ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر یونان کے مغرب میں واقع اس ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر پاتراس میں تارکین وطن کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑے میں ایک سترہ سالہ تارک وطن ہلاک جب کہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مہاجرین اور تارکین وطن کو یونانی جزائر سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقلی کا اعلان مہاجرت سے متعلق ملکی وزیر دیمیتریس ویتساس نے لیسبوس جزیرے کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔۔تارکین وطن کی جزائر سے منتقلی کے فیصلے کا مقصد لیسبوس سمیت دیگر یونانی جزیروں کے حراستی مراکز میں گنجائش سے زیادہ مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کے باعث کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ایتھنز حکومت کے مطابق ان جزائر پر قائم ابتدائی رجسٹریشن کے مراکز میں مقیم تارکین وطن اور مہاجرین کی بڑی تعداد کو رواں برس ستمبر کے مہینے تک ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ آئندہ ان جزیروں پر قائم مراکز میں گنجائش کے مطابق ہی تارکین وطن کو رکھا جائے گا۔۔موسم بہتر ہونے کے ساتھ ہی یونانی جزیروں کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث لیسبوس، شیوس اور ساموس جیسے یونانی جزائر پر مہاجرین کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔