آزاد کشمیر کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم فیض القرآن بیس بگلہ کا سالانہ دینی اجتماع اختتام پذیر

اں سالانہ دینی اجتماع میں پاکستان و آزادکشمیر کے معروف علما ئاور نعت خواں حضرات نے شرکت کی دینی مدارس دہشت گردی نہیں دین پھلا رہے ہیں ‘ملک کے لیے صبح و شام دعا کرتے ہیں‘علماء کرام

اتوار مئی 13:00

بیس بگلہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) دینی مدارس دہشت گردی نہیں دین پھلا رہے ہیں ‘ملک کے لیے صبح و شام دعا کرتے ہیں-آزاد کشمیر ضلع باغ اور تحصیل دھیرکوٹ کے سنگم پر واقع غازیوں اور شہید وں کی سرزمین بیس بگلہ کے مقام پر قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم مدرسہ فیض القرآن بیس بگلہ کے 58 واں سالانہ دینی اجتماع سے علما کرام کا خطاب- تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر ضلع باغ بیس بگلہ میں قائم قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم مدرسہ فیض القرآن بیس بگلہ کہ زیر اہتمام 58 واں دو روزہ سالانہ دینی اصلاحی اجتماع اجتماعی دعاء کے ساتھ اختتام سینکڑوں افراد کی شرکت- اجتماع میں پاکستان و آزادکشمیر کہ معروف علما اور نعت خواں حضرات نے شرکت کی یہ اجتماع پانچ نشستوں پر مشتمل تھا خصوصی خطاب مولانا محمود الحسن۔

(جاری ہے)

مولانا حبیب الرحمن مولانا عبدالطیف شاہ اور ریٹائرڈ کرنل محمد طارق خان پاکستان جبکہ آزاد کشمیر سے آمیر جمعیت علمائ اسلام آزاد کشمیر مولانا محمد سعید یوسف خان مولانا عبدالوحید قاسمی آمیر تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اعجاز سابق نائب آمیر جے یو آئی آزاد کشمیر مولانا محمد نذیر فاروقی مولانا آمین الحق آزاد کشمیر و پاکستان کہ مقبول نعت خواں اعجاز کاظمی سابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل جے یو آئی آزاد کشمیر مولانا عبدالکبیر خان صدر تقریب۔

ناظم مدرسہ فیض القرآن بیس بگلہ مولانا مطیع الرحمن عثمانی اور دیگر علماء کرام نے قرآن کی عظمت حدیث کہ علاوہ مسائل پر دینی روشنی میں تفصیلی تقاریر کیں علماء کرام نے مدرسہ فیض القرآن بیس بگلہ کے بانی مولانا عبدالغنی مرحوم کی دینی معاشرتی خدمات پر زبردست انداز میں خراج تحسین و خراج عقیدت پیش کیا جم غفیر مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے مولانا محمود الحسن ایبٹ آباد نے کہا کے یہ ملک والدین کی طرح ہے اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے جو لوگ کہتے ہیں مدارس دہشت گردی پھلا رہے ہیں وہ سن لیں علما کرام رہیں گے تو ملک بھی قائم ہے ہم صبح شام پاکستان کی حفاظت استحکام کے لے دعائیں کرتے ہیں انھوں نے کہا علمائ کی برکت سے دین پھیل رہا ہے تبدیلی قرآن پاک سے آے گی اللہ کا پیغام جب دل میں اتاریں گے تو سب سے بڑی تبدیلی ہوگی لوگوں عورتوں کا احترام کروں ان کہ حق حقوق جس پر دین زور دیتا ہے اس پر عمل کریں۔

اجتماع سے خطاب کرتے مولانا محمد سعید یوسف خان نے عظمت قرآن اور حدیث پر مفصل بیان کیا انھوں نے کہا افغانستان قندوز کے دینی ادارے میں اسی طرح کی تقریب دستار بندی تھی والدین نے بچے مدرسے میں بھیجے تھے قرآن کے حافظ بچوں پر بم گراے والدین کو میتیں ملیں آمیر تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر مولانا عبدالوحید قاسمی نے خطاب کرتے کہا کہ سابق سپیکر اسملی آزاد کشمیر میجر محمد ایوب نے تاریخی کارنامہ قرارداد پیش کر کے کیا پھر اسمبلی نے منظوری دی سردار محمد عبدالقیوم خان اور انکی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا رہا مگر انھوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا آج وزیر آعظم راجہ محمد فاروق حیدر کو اس پر عملی جامہ پہنانے پر ہم سب مبارک باد پیش کرتے ہیں صدر تقریب سے قبل ادارے سے قرآن پاک حفظ کرنے والے طلبہ کی دستار بندی مولانا محمد سعید یوسف خان اور کرنل محمد طارق خان راولپنڈی نے کی ناظم مدرسہ مولانا مطیع الرحمن عثمانی اور صدر تقریب مولانا عبدالکبیر خان نے تمام مہمانوں شرکاء اجتماع سمیت تمام مقامی دوست احباب جنھوں نے اجتماع کو کامیاب کیا کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور مولانا عبدالغنی مرحوم کہ قریبی رفیق خاص مدرسہ کی بانی مشاورتی کونسل کے اہم بزرگ شخصیت جو گزشتہ عرصے 110 سال عمر میں وفات پا گئے حاجی شمشیر خان اور دیگر جو مدرسے کے معاونیں وفات پا چکے سب مرحومین کو خراج تحسین پیش کیا اس کے بعد یہ سالانہ دو روزہ تبلیغی اجتماع ختم ہوا -