آج سے ملک بھر میں پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا ، نیشنل ایمرجنسی اپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو

مہم کے تحت 5 سال تک کی عمر کے 2 کروڑ 38 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے پولیو کے تدارک کی اس مہم کو بھی کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے،سینیٹر عائشہ رضا فاروق

اتوار مئی 13:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پولیو کے تدارک کے لیے قائم ادارے، نیشنل ایمرجنسی اپریشنز سینٹر نے کہا ہے کہ آج سے ملک بھر میں پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت 5 سال تک کی عمر کے 2 کروڑ 38 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔ وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ صحت کے دوسرے شعبوں کی طرح پولیو کے تدارک کی اس مہم کو بھی کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے تاکہ اس موذی وائرس کا پاکستان کی سرحدوں سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے بچے ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اس مہم میں 1 لاکھ 61 ہزار کے قریب صفِ اول کے پولیو ورکرز حصہ لیں گے جو آئندہ پانچ روز کے دوران گھر گھر جا کر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کی محفوظ اور موثر ویکسین کی دو دو خوراکیں پلانے کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔

(جاری ہے)

سینیٹر عائشہ رضا کا کہنا تھا کہ ہماری کامیابی ان مہمات کے انعقاد کی انتظامیہ اور پولیو ورکرز کے ساتھ ساتھ والدین اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد پر بھی منحصر ہو گی جو پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو حفاظتی ویکسین کی دو خوراکیں پلانے کا عمل یقینی بنانے میں ہمیں اپنا بھرپور تعاون فراہم کریں گی"۔

اس حوالے سے سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے ایک محفوظ اور موثر دوا ہے جو کہ تقریباً دنیا کے ہر ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے زیر انتظام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز بھی اس ویکسین کی منظوری دے چکی ہیں جبکہ یہ ویکسین انتہائی احتیاط کے ساتھ شعبہ صحت اور ادویات سازی کے بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہے۔

سال 2014ء سے اب تک پاکستان میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں مجموعی طور پر 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔سال 2014ء کے اختتام پر پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد 306 ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ سال 2017ء کے اختتام پر صرف 8 تھی جبکہ رواں سال کے دوران ابھی تک پولیو سے متاثرہ صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے جو کہ ایک خوش آئند اور قابل ستائش امر ہے۔ پولیو کے تدارک کا یہ قومی پروگرام ابھی بھی اس موذی وائرس کی ممکنہ آماجگاؤں کراچی،، کوئٹہ بلاک اور پشاور کے علاقوں میں جاری ہے تاکہ شعبہ صحت کے اس پروگرام کے تحت موذی وائرس کا خاتمہ یقینی بناتے ہوئے ملک بھر کے بچوں کو پولیو سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ایسے والدین یا بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد جو بچے کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے میں کوتاہی یا غفلت سے کام لیتے ہیں وہ نا صرف اپنے بلکہ گردو نواح کے دوسرے بچوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ملک کے کسی بھی حصے میں پولیو کے موذی وائرس کی موجودگی کی تشخیص کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ کبھی بھی اس موذی وائرس کا شکار بن سکتا ہے۔

یہاں اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جب بھی پولیو کی ٹیمیں آپ کے دروازے پر آئیں، اپنے بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں۔ والدین اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد کو مہلک امراض سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے بچوں کی لازمی ویکسینیشن کروانی چاہئیے۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق علاقہ عمائدین، کمیونٹی کے افراد اور بچوں کے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صحت محافظوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔