نعیم بخاری پر حملہ اقدام قتل قرار ،ْ لندن پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر نعیم بخاری کو دھکا دیا ،ْایشیائی نژاد مشتبہ شخص کی تلاش میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد حاصل کی جارہی ہے ،ْ حکام

اتوار مئی 14:20

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) لندن پولیس نے معروف قانون دان اور پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کے ساتھ 27 اپریل کو پیش آنے والے واقعے کو اقدام قتل قرار دیکر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں کو مشتبہ شخص کی تلاش ہے جس نے نعیم بخاری کا پیچھا کرکے لندن کے ماربل ارچ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر نعیم بخاری کو دھکا دیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور لندن کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔مذکورہ واقعہ کے بعد برٹش ٹرانسپورٹ پولیس نے بتایا کہ ایشیائی نژاد مشتبہ شخص کی تلاش میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد حاصل کی جارہی ہے۔ان کے مطابق نعیم بخاری پر حملہ کرنے کے بعد مشتبہ شخص بھیڑ میں غائب ہوگیاتاہم بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کاروں کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں مشتبہ شخص کو آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ نعیم بخاری پلیٹ فارم پر گرنے سے زخمی ہوئے تھے ،ْبعد ازاں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی تصاویر میں ان کے ماتھے اور آنکھ پر گہرے زخم اور دائیں باوز پر بندھی پٹی کے بعد واقعہ کی نوعیت پر تحفظات اٹھنے لگے۔واقعہ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ایک الزام یہ بھی عائد کیا گیا کہ نعیم بخاری شراب کے نشے میں تھے، جنہیں بعض لوگوں نے پال مال نائٹ کلب سے باہر پھینک دیا تاہم یہ محض افواہ ثابت ہوئی جس کی تصدیق پال مال نائٹ کلب نے پولیس کو فون پر کی۔

لندن پولیس حکامم کے مطابق اگر کسی شخص پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا جائے تو یہاں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔بی ٹی پی نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں سے درخواست کی کہ ماربل ارچ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں 27 اپریل کو 3 بج کر 10 منٹ پر پیش آنے والے واقعہ سے متعلق معلومات کی صورت میں فوری رابطہ کریں۔ویب سائٹ پر کہا گیا کہ تفتیش کار اقدام قتل کیس پر کام کررہے ہیں جس میں مشتبہ شخص نے نعیم بخاری کو ‘ایسٹ باؤنڈ’ ٹریک کی جانب دھکا دیا۔