اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میںایک بین الاقوامی ایجنڈے کی حیثیت بھی رکھتا ہے،بھارت نے اپنے فوجیوں کو’ افسپا‘ جیسے کالے قوانین کی چھتری تلے گولی چلانے کے اختیارات دیے ہوئے ہیں

مقررین کابین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میںیوتھ فورم فار کشمیر کے تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

اتوار مئی 14:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اورانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر) کے تعاون سے’’مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نئی حکمتِ عملی کی تلاش‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقادقائدِ اعظم آڈیٹوریم، فیصل مسجد اسلام آباد میں کیا گیا۔سیمینار کے کلیدی مقررین میں سید یوسف نسیم- رہنماء کُل جماعتی حریت کانفرنس،، ڈاکٹر عبداللہ حمید گل-- چیئرمین تحریکِ جوانانِ پاکستان،، احمد قریشی- ٹی وی اینکر / ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ فورم فار کشمیر، ڈاکٹر ظفر اقبال- چیئرمین میڈیا ڈیپارٹمنٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ،ہامون رشید چوہان- ٹی وی اینکر اور دیگر شامل تھے۔

سید یوسف نسیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھانے والے بھارت کو کسی قسم کا کو ئی خوف نہیں کیونکہ بھارت نے اپنے فوجیوں کو’ افسپا‘ جیسے کالے قوانین کی چھتری تلے کسی بھی پابندی کے بغیر کسی کوبھی جان سے مارنے کیلئے گولی چلانے کے اختیارات دیے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج نے اپنی ہی حکومت کے سامنے یہ بھی قبول کیا ہے کہ تنازعہٴ کشمیر طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

عبداللہ حمید گل نے کہا کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین ایک دو طرفہ مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ اقوام متحہ کی قراردادوں کی روشنی میںایک بین الاقوامی ایجنڈے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کشمیر میں بچھائے ہوئے اپنے ہی جال میں بری طرح پھنس چکی ہے اور اب وہ بہت اچھی طرح جان چکی ہے کہ طاقت کے استعمال سے تنازعات کو حل کرنا ناممکن ہے۔

احمد قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیر پر اپنی نصف صدی سے جاری خاموشی ختم کردی ہے اور یہ سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے تنازعہٴ کشمیر کے حل کی جانب ایک نئی امید ہے جو کہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سات دہائیوں سے ناقابل حل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال جون میں انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کشمیر پر ایک رپورٹ جاری کرنے جا رہے ہیں۔

ہامون رشید چوہان نے کہا کہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے لیکن مذاکرات اس طویل ترین تنازعہ کے حل کی واحد امید ہیں۔کشمیری آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ہمیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کی حمایت کرنی چاہئے۔۔ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ دنیا پریس کی آزادی کے دن منا رہی ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی کوئی آزادی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کشمیر کے تنازعہ کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔YFKانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہٴ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔