قندھار پولیس سربراہ کے گھر پر خودکش حملہ، جنرل رازق محفوظ ،تینوںحملہ آورہلاک

جھڑپوں میں دوافغان فوجی بھی مارے گئے،حملے کی اطلاعات تھیں اس لیے حفاظتی اقدامات کررکھے تھے،رزاق کی گفتگو

اتوار مئی 14:30

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) تین خودکش بم حملہ آوروں نے ضلع بولڈک میں قندھار پولیس کے سربراہ، جنرل عبدالرازق کے گھر پر حملہ کردیاتاہم ، جنرل رازق محفوظ رہے جبکہ فورسزنے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں حملہ آروں کو ہلاک کردیا اس دوران جھڑپوں میں افغان پولیس کے دو ارکان بھی ہلاک ہوئے۔،امریکی ٹی وی کے مطابق یہ بات صوبائی اہل کاروں نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتائی،یہ حملہ رات گئے ہوا۔

حکام نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ہدف تک پہنچیں، افغان سکیورٹی افواج نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔یہ حملہ اٴْس وقت شروع ہوا جب سکیورٹی چوکی کے داخلی دروازے پر ایک خودکش بم حملہ آور نے بارود بھری جیکٹ کو بھک سے اٴْڑا لیا۔ دو دیگر شدت پسند جن کے بدن سے بھی خودکش جیکٹ بندھے ہوئے تھے، ایک گھنٹے تک سکیورٹی محافظین پر گولیاں چلاتے رہے۔

(جاری ہے)

مقامی حکام نے کہا کہ حملے میں افغان پولیس کے دو ارکان بھی ہلاک ہوئے۔حملے کے وقت جنرل رازق قندھار شہر میں موجود تھے۔ اٴْنھوں نے بتایا ہے کہ اٴْن کے اہل خانہ محفوظ ہیں۔رازق نے کو بتایا کہ ممکنہ حملے سے متعلق حکام کے پاس پیشگی خفیہ معلومات تھی، جس کے باعث اٴْنھوں نے تمام ضروری سلامتی سے متعلق اقدامات کر لیے تھے۔رازق نے کہا کہ قانون کا نفاذ کرنے والوں کے پاس امکانی حملے کی اطلاعات تھیں۔

پہلا حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا اور سکیورٹی کی چوکی پر بم حملہ کیا۔ باقی دو حملہ آوروں کو سکیورٹی فورسز نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔رازق پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں تھا۔ جب سے وہ جنوبی صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ تعینات ہوئے ہیں، اٴْن پر کئی حملے ہوچکے ہیں جن میں وہ محفوظ رہے ہیں۔کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

متعلقہ عنوان :