سعودی عرب کا زائرین اور سیاحوں کے لیے نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020 کا آغاز

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار مئی 16:15

سعودی عرب کا زائرین اور سیاحوں کے لیے نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020 ..
جدہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 مئی۔2018ء) سعودی کمیشن برائے قومی ورثہ اور سیاحت (ایس سی ٹی ایچ) نے مسلمان زائرین اور سیاحوں کے لیے نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020 کا آغاز کردیا جس کے تحت سعودی عرب میں متعدد سیاحتی مقامات بنائیں جائیں گے۔عرب نشریاتی ادارے کے مطابق ای سی ٹی ایچ کے ترجمان سعود المغبل نے بتایا کہ ٹرانسفارمیشن پروگرام، پرائیوٹ اور پبلک شراکت داری (پی پی پی) پر مشتمل ہوگا۔

ای سی ٹی ایچ کے ترجمان نے بتایا کہ پی پی پی اقدام کے ذریعے ملکی سیاحتی محکمے کو فعال اور موثر بنانے گا جس کے ذریعے سعودی ویژن 2030 کی تکیمل ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ای سی ٹی ایچ اپنے اہم شراکت دار وزارت داخلہ،، وزارت خارجہ امور، حج اور عمرہ سمیت سعودی عرب ایئرلائن سے رابطے میں ہیں، جن کی مشاورت سے اقدام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ منصوبے کے روح رواں ایس سی ٹی ایچ کے صدر شہزادہ سلطان بن سلمان ہیں، ٹرانسفارمیشن پلان سے سیاحت کے ذریعے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے اور مثبت سماجی تبدیلیاں آئیں گی۔ایس سی ٹی ایچ کے ترجمان نے بتایا کہ دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین مذہبی فرائض کی ادائیگی کرنے کے بعد مختلف سیاحتی مقامات پر جاسکتے ہیں، مذکورہ پروگرام کے تحت شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھیں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں اقتصادی اور ترقیاتی امور کی کونسل نے تزویراتی اہمیت کے حامل 10 سرکاری پروگراموں کا آغاز کیا تھا۔ جن کا مقصد”سعودی ویژن 2030“ کو کامیاب بنانا ہے۔ سعودی کابینہ نے ویژن 2030 کی منظوری 25 اپریل 2016 کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس میں دی تھی۔مذکورہ پروگرام ان دو منصوبوں کی تکمیل شمار کیے جا رہے ہیں جن کی منظوری سابقہ طور پر دی جا چکی ہے۔

ان میں نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020 گزشتہ برس 6 جون کو اور فنائنشل بیلنسنگ پروگرام 2020 گزشتہ برس 22 دسمبر کو شروع ہوا تھا۔ان تمام پروگراموں کا مقصد سعودی ویژن 2030 کے منصوبے کی تکمیل کو سپورٹ کرنا ہے تاکہ اسلامی اقدار اور قومی تشخص کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہوئے مملکت کی معیشت کو مزید خوش حال اور سعودی معاشرے کو زیادہ متحرک بنایا جا سکے۔