مسئلہ کشمیر کا حل تشدد سے نہیں سفارتکاری سے ہوگا، کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، برطانیہ سلامتی کونسل کا رکن ہونے کے ناطے اس دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے، کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، بھارت کے ہر حربہ آزما چکنے کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد نہیں ہو سکا۔

صدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ افضل خان کا کشمیر ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب

اتوار مئی 16:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) صدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ افضل خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل تشدد سے نہیں سفارتکاری سے ہوگا، کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، برطانیہ سلامتی کونسل کا رکن ہونے کے ناطے اس دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے، کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، بھارت ہر حربہ آزما چکا تاہم کشمیریوں کے جذبہ آزادی سرد نہیں ہو سکا۔

اتوار کو کشمیر ہائوس میں افضل خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر جل رہا ہے، گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو قتل،، عورتوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے، تحریک مزاحمت کی قیادت پابند سلاسل ہے، گزشتہ روز بھی چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے، شبیر احمد شاہ نے قید و بند کے 31 سال مکمل کئے ہیں، ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہم حریت قائدین کی رہائی اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آٹھ سالہ کشمیری بچی آصفہ کے قتل پر میڈیا نے بھرپور آواز اٹھائی، ان کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے، اس کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ریاستی دہشت گردی سے حل نہیں ہو گا اسے سفارتکاری سے حل کرنا ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بدنام زمانہ قوانین ختم کئے جائیں، لاکھوں بھارتی فوج کشمیر میں ظلم و ستم میں ملوث ہے۔

برٹش ممبر پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ ہم برطانیہ میں ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ سائوتھ ایشیاء میں امن ہو، بنیادی تنازعہ کشمیر پر 70 سال سے ظلم ہو رہا ہے، ملٹری فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، یہ برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے، یہ برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو حل کی طرف لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ دولت مشترکہ اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، اس کو اس مسئلہ کے حل کے لئے کردار ادا کرنا چاہئیے۔

افضل خان نے کہا کہ آئر لینڈ اور امریکہ اور یورپی یونین نے امن کے لئے کردار ادا کیا تھا، پھر ہم کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پاکستان بھارت کا مسئلہ ہے، ہم اپنا دبائو برقرار رکھیں گے۔ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںپرآواز تو اٹھا سکتے ہیں بے شک وہ پاکستان کا ساتھ نہ دیں، وہاں موجود کشمیری تارکین وطن بھی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن ضروری ہے کیونکہ امن کے بغیر خوشحالی ممکن نہیں ہے، ہمارے منشور میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے خلاف آواز بلند کرنا شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں افضل خان نے کہا کہ ہم دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہیں، بہتری انصاف سے ہوتی ہے، برطانیہ میں ہم اس سب پر متفق ہیں۔ دولت مشترکہ کے اجلاس کے موقع پر بھرپور مظاہرہ اس کا ثبوت ہے تاہم مزید بہتری لانے اور روابط بڑھانے کی ضرورت ہے، وہاں ہم مضبوط ہو رہے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ، میئر لندن پاکستانی نژاد ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی خلاف ورزیوں کو ہم نے بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک ہمیں بلند بانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو بے نقاب کرنے کیلئے ہائوس آف کامنز، یورپی پارلیمنٹ ناروے،، ڈنمارک،سویڈن میں جرمنی سپین سمیت کئی ممالک میں کشمیر کا مقدمہ لے کر گئے۔

بھارت کے ظلم کی یہ دیوار گرانا آسان نہیں تاہم ہم ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔ حکومت آزاد کشمیر اور حریت قیادت براہ راست اپنا مقدمہ عالمی برادری کے پاس لے کر جا رہی ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں تاہم ہماری بات اس سطح پر سنی نہیں جا رہی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر کمیٹی بھی اپنا کام کر رہی ہے، اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے، قومی اسمبلی اور سینٹ نے کشمیر کے حوالے سے قراردادیں پاس کی ہیں۔

سپیکر اور چیئرمین سینٹ فعال رہے ہیں، اصل مسئلہ بھارت کی پالیسی کی وجہ سے ہے، وہ روزانہ ریاستی دہشت گردی کرتے ہیں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان میں ایک جمہوری ٹرانزیکشن ہونے جا رہی ہے اس دوران جنرل اسمبلی کا اجلاس ہے اس حوالے سے مشاورت کی جا رہی ہے تاہم اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے، نگران سیٹ اپ میں بھی بھرپور نمائندگی ہو گی، کشمیری 70 سال سے اپنے موقف پر کھڑے ہیں اور پاکستان بھی اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے کھڑا ہے تاہم بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے سامنیکشمیری سینہ سپر ہی۔

کشمیری ایک دلیر اور ہمت والی قوم ہے، کوئی ان کے جذبہ کو غیر متزلزل نہیں کر سکتا، پاکستان ہماری سرپرستی کر رہا ہے، کشمیری ضرور کامیاب ہوں گے، ہم جنوبی ایشیاء میں امن چاہتے ہیں تاہم جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا امن کے لئے کاوشیں بے سود ہیں، مذاکرات کا عمل پہلے بھی رہا اس سلسلے میں جو بھی کوششیں ہوں کشمیر کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

کشمیر پورے پاکستان کا مقدمہ ہے، کشمیریوں نے لالچ، دھونس، ہر چیز مسترد کر دی ہے، 70 سال میں کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے، یہ کامیابی ہے، آزادی کشمیری قوم کا عزم ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ برطانیہ کی ذمہ داریاں دوہری ہیں لہذا اس ضمن میں وہ اپنا کردار ادا کرے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں انسانی حقوق اور کشمیر کا مسئلہ بار بار اٹھایا جائے، برطانوی دفتر خارجہ سے بار بار سوال اٹھایا جائے، ہائوس آف کامنز کے چیمبر میں مسئلہ کشمیر زیر بحث لایا جائے۔ ممبران برٹش پارلیمنٹ نے کشمیر پر رابطہ گروپ بنا رکھا ہے اس نے گزشتہ سال وہاں محبوبہ مفتی کو بھی بلایا تھا لیکن وہ نہیں آئیں کیونکہ وہ اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں ان کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔