این ایل سی اور ڈیملر اے جی نے پاکستان میں مرسڈیز ٹرکوں کی تیاری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے

اتوار مئی 17:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور ڈیملر اے جی نے پاکستان میں مرسیڈیز ٹرکوں کی (مقامی سطح پر )تیاری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے۔ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل مشتاق احمد فیصل اور پاک این ایل سی موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ضیا احمد جبکہ مرسیڈیز بنز سپیشل ٹرک کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ کلاوس فشینگر اور جرمنی میں سیلز کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے دستخط کیے۔

اس موقع پر شاہنواز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جنرل مینجر نسیم شیخ اور پاکستان میں مرسیڈیز بنز گاڑیوں کے مجاز تقسیم کنندہ احمد نعیم بھی موجود تھے جنہوں نے قومی اہمیت کے اس منصوبے کے لیے دونوں پارٹنرز کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔

(جاری ہے)

این ایل سی کی جانب سے مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کی صنعت میں بنیادی تبدیلی کا باعث ثابت ہوگی۔

یورپین مصنوعات کو اپنی ایڈوانس ٹیکنالوجی،، عمدہ کارکردگی، ماحول دوستی، پائیداری اور روڈ سیفٹی کی بنا پر برتر ی حاصل ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل مشتاق احمد فیصل نے مفاہمت کی یاداشت کو پاکستان کی کمرشل گاڑیوں کی صنعت کے لیے تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرسڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

جدید ترین اسمبلی پلانٹ کی تنصیب روڈ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کارکردگی میں مزید بہتری کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آ ٹو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21ء میں دی گئی مراعات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئے مرسڈیز ٹرک مارکیٹ میں مسابقتی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔ڈائریکٹر جنرل این ایل سی نے کہا کہ مرسڈیز بنز ٹرکوں کی پاکستان میں اسمبلی ٹرکنگ کے شعبے میں صحتمندانہ مقابلے کی فضاء پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے باربرداری کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مقامی ونڈر انڈسٹری میں معیاری تبدیلی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گی۔ رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور سپیشل مرسڈیذ بنز ٹرک کے سیلز اور مارکیٹنگ کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے اس موقع پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوںکے دوران پاکستان کے انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی کے براہ راست اثرات لاجسٹکس کی صنعت پر مرتب ہوئے جس کی وجہ سے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی مضبوط معاشی شرح نمو نے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اس شعبے میںٹرکوں کی مانگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سی پیک کی بدولت مواصلات کا جدید نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں ، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملائے گا۔