سورینج کی 2کوئلہ کانوں میں پھنسے 5مزید کانکنوں کی نعشیں نکال لی گئی ہیں، 2واقعات میں 23افراد جاں بحق جبکہ 14کانکنوں کو بے ہوشی اورزخمی حالت میں نکال کر سول ہسپتال کوئٹہ پہنچادیا ،دونوں کان حادثات کی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری مقرر کی جائیں گی،چیف انسپکٹر آف مائینز افتخار احمد

اتوار مئی 17:30

کوئٹہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج کی 2کوئلہ کانوں میں پھنسے 5مزید کانکنوں کی نعشیں نکال لی گئی ہیں مجموعی طور پر 2واقعات میں 23افراد جاں بحق جبکہ 14کانکنوں کو بے ہوشی اورزخمی حالت میں نکال کر سول ہسپتال کوئٹہ پہنچادیا گیا۔چیف انسپکٹر آف مائنیز افتخار احمد نے بتایا کہ سورینج میں متاثرہ کوئلہ کان سے اتوار کو 5مزید کانکنوںکی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 2کانکنوں کی نعشیں گزشتہ رات کو نکال لی گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ سورینج میں کوئلہ کان بیٹھنے سے 9کانکن کان میں پھنس گئے تھے جس میں سے 7کانکن جاں بحق جبکہ2کانکنوں کو بے ہوشی کی حالت میں نکال کر سول ہسپتال کو ئٹہ پہنچادیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کان سے نعشیں نکالنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ماڑواڑ میں دوسرے کان حادثہ میں 16کانکن جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 14کانکنوںکو زخمی اور بے ہوشی کی حالت میں زندہ نکال کر ہسپتال پہنچادیا گیا تھاجہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ مارواڑ میں کان حادثہ میتھین گیس بھر جانے اوردھماکے کے باعث ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح دونوں کان حادثات میں جاں بحق ہونے والے کانکنوں کی تعداد 23ہوگئی ہے جبکہ 14کانکن بے ہوش اورزخمی ہوئے تھے۔ چیف انسپکٹر مائینز کے مطابق دونوں کان حادثات کی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری مقرر کی جائیں گی کورٹ آف انکوائری کی منظوری سیکرٹری معدنیات دیں گے جس میں متعلقہ کوالیفائیڈ ماہرین کے علاوہ لیبر یونین کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا دونوں کوئلہ کان حادثات کی علیحدہ علیحدہ تحقیقات ہونگی اور حادثات کی اصل وجوہات اورذمہ داری کا تعینات کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سورینج کوئلہ کان کا تعلق پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور مارواڑ کان کا تعلق نجی کوئلہ کمپنی سے ہے۔کان حادثات میں جاں بحق ہونے والے 23کانکنوں کی نعشیں غسل اور کفن کے بعد تابوتوں میںپیک کرکے آبائی علاقوں سوات اورشانگلہ روانہ کردی گئی ہیں۔