کشمیری ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں ،سردارمسعودخان

کشمیر کا مسئلہ کوئی جغرافیائی یا زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کا سوال ہے، تارکین وطن کو مزید متحرک کرنا ہوگا ،ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہی کشمیریوں کا صحیح معنوں میں وکیل اور ان کی آزادی کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے،سیمینار سے خطاب

اتوار مئی 17:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری دہشت گرد نہیں بلکہ آزادی کے متوالے ہیں اور وہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار صدر مسعود خان نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن کے زیر اہتمام دو روزہ سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ 1947ء میں مہاراجہ کشمیر کی طرف سے کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویزات آج تک حقیقی ثابت نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1948کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ہندوستان اور پاکستان دونوں کو کشمیر سے اپنی افواج کو کم کرنا تھا لیکن ہندوستان اس پر کوتا اندیشی سے کام کرتا رہا ۔ صدر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ یہ سہ فریقی ہے اور ہمیں دوطرفہ مذاکرات کے فریب سے نکل کر بین الاقوامی برادری کے پاس جانا چاہیے اور دنیا کا ہر وہ دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے جو کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں ممد و معاون ثابت ہو۔

(جاری ہے)

ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنی تین رخی سٹرٹیجی پر کام کرتے ہوئے کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے اندر قتل کر رہا ہے اور لائن آف کنٹرول پر رہنے والے آزادکشمیر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت اور پاکستان سے مذاکرات کا دروازہ بند کئے ہوئے ہیں۔ صدر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی جغرافیائی یا زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کا سوال ہے۔

آج جس طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت جاری ہے اورکشمیریوں کو نسلی اور مذہبی بنیادوںپربے دردی سے قتل عام کیا جا رہا ہے یہ پوری دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے بلکہ ہندوستانی افواج کالے قوانین کا سہارا لے کر معصوم کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہا رہی ہے۔ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری و ساری رکھنی ہو گی اور اپنی صفوں کے اندر مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کے ہاں دستک دینی ہوگی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

صدر نے کہا کہ ہمیں اپنے تارکین وطن کو مزید متحرک کرنا ہوگا اور ان کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی دستور ساز اداروں تک پہنچنا ہوگا۔ تارکین وطن جہاں کہیں بھی ہیں وہ وہاں اپنی حکومتوں تک اپنے بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے کشمیر اور پاکستان کے غیر اعلانیہ سفیروں کا کردار ادا کریں ۔ صدر نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا اور الیکٹرانک دور ہے ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر پہنچانا ہو گا۔

صدر نے کہا کہ ہمیں تمام بین الاقوامی سول سوسائٹی تک اپنی رسائی ممکن بناتے ہوئے تما م دنیا کے ان افراد تک اپنی بات پہنچانا ہو گی جو غیر جانبدارانہ طریقے سے انسانی حقوق کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں اور دنیامیں جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ان میں صحافت سے منسلک افراد بھی شامل ہیں ، دانشور بھی شامل ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی زعماء بھی شامل ہیں ۔

صدر نے کہا کہ آج ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہی کشمیریوں کا صحیح معنوں میں وکیل اور ان کی آزادی کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔ صدر نے کہا کہ کشمیر پاکستان ہندوستان کے درمیان وجہ تنازعہ نہیں بلکہ یہ دوملکوں کے درمیان ربط اور جوڑ کی علامت ہے اس مسئلے کو پر امن ، شفافانہ طریقے سے حل کر کے دونوں ملک ترقی کی شاہراہ پر بہت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

سیمینار سے قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفرالحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور پوری پاکستانی قوم کشمیر کے نقطے پر یکجا اور متفق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جتنی مرضی طاقت کا استعمال کر لے وہ کشمیر کے لوگوں کو جدوجہد آزادی کشمیر سے روک نہیں سکتا۔ اجلاس سے سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ KIIRآج اپنی پچیسیوں سالگرہ منا رہا ہے اور ہم نے اس فورم کے ذریعے دنیا کے ہر براعظم میں معصوم کشمیریوں کی آواز کو پہنچایا ہے اور ہم یہ کام پوری شد و مد کے ساتھ آئندہ بھی جاری و ساری رکھیں گے۔

اجلاس سے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امجد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے اپنے ادارے کا پچیس سالہ سفر اور اپنی کامیابیوں کا تفصیلاً احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیریوں کے ساتھ عہد وفا کر رکھا ہے کہ ہم ان کی آزادی تک چین اور سکھ سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس سیمینار سے قائد ایوان سینیٹر ظفر الحق ، سپیکر آزادجموں وکشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر ، عبد الرشید ترابی، سردار امجد یوسف ، سید فیض نقشبندی نے بے خطاب کیا۔ سیمینار میں مختلف قومی اور بین الاقوامی دانشوروں ، سول سوسائٹی کی کثیر تعداد ، ذرائع ابلاغ کے نمائندگان اور سیاسی زعماء نے شرکت کی۔