اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے ہی خوشحال معاشرہ اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے میں مدد ملتی ہے، گورنرسندھ

امن و امان کے قیام اور انرجی بحران کے خاتمہ کے بعد قومی معیشت مستحکم ہو رہی ہے ،اعلیٰ تعلیم کا فروغ انتہائی نا گزیر ہے،محمد زبیر حبیب یونیورسٹی نے مختصر عرصہ میں عصر ی تقاضوں کے مطابق نصاب کی تیاری اور شاندار عمارت کو ڈیزائن کیا ہے، یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب

اتوار مئی 18:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) گورنرسندھ / پیٹرن محمد زبیر نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے ہی مستحکم معیشت ، خوشحال معاشرہ اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے میں مدد ملتی ہے موجودہ حکومت نے اسی وژن کے تحت بھرپور اقدامات یقینی بنائے ، امن و امان کے قیام اور انرجی بحران کے خاتمہ کے بعد قومی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اسے مزید مضبوط بنانے کے لئے اعلیٰ تعلیم کا فروغ انتہائی نا گزیر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم ، نصاب اور درس گاہوں کو مرتب کرنے سے طالب علموں کو معاشرہ کا کار آمد فرد بنایا جا سکتا ہے اس ضمن میں حبیب یونیورسٹی نے مختصر عرصہ میں عصر ی تقاضوں کے مطابق نصاب کی تیاری ، درس و تدریس اور شاندار عمارت کو ڈیزائن کیا ہے جہاں پر کلاس رومز اور لیب بھی اپنی مثال آپ ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار پیٹرن محمد زبیر نے حبیب یونیورسٹی کے پہلے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر حبیب یونیورسٹی کے چانسلر رفیق محمد حبیب، لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے بانی سید بابر علی ، حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف اے رضوی ، پروفیسر ز ، لیکچرارز ، اساتذہ اور طالب علموں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے سرکاری و نجی جامعات کو حکومت بھرپور تعاون فراہم کررہی ہے ، صوبہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ہائر ایجوکیشن کا کردار اہم ثابت ہورہا ہے ،عصر حاضر کے مسابقتی دور میں اعلیٰ تعلیم سے ہی پاکستان کو معاشی طور پرمزید مستحکم اور عالمی معاشی نقشہ پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ کی جامعات میں زیر تعلیم ہونہا ر طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے انھیں والدین کے ہمراہ گورنر ہائوس مدعو کیا جارہا ہے اس ضمن میں حبیب یونیورسٹی کے بہترین طالب علموں کو بھی مدعو کیا جائے گاتاکہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا سکے ۔ حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف اے رضوی نے کہا کہ جدید فیکلٹی اور قابل فخر اساتذہ کی زیر نگرانی طالب علموں کے پہلے بیج نے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرلی ہے ، یونیورسٹی کے پہلے کا نووکیشن میں شریک پروفیسر ز ، لیکچرارز ، اساتذہ اور طالب علم ایک تاریخ رقم کررہے ہیں جو کہ جامعہ کے لئے بھی قابل فخر تاریخی دن ہے عالمی جامعات کے تعاون سے حبیب یونیورسٹی میں طالب علموں کو جدید نصاب ، تربیت اور فیکلٹی کی سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔

کانووکیشن میں پیٹرن محمد زبیر نے BS الیکٹریکل انجینئرنگ میں عبد الرحمن ، عنبرین اسلم ، بشریٰ شکیل ، غزل حیدر ، لائبہ زاہد ، محمد طلحہ ، محمد عاشر واحد ، محمد زوبیب اشرف ، اسامہ بن رضوان ، ربیعہ سلیم ، سائرہ خان ، سکینہ مسکہ والا، شارق علی شاہانی ، سید حسنین رضا ، سید جہانزیب ابرار ، سید محمد حسن نقوی ، سید محمد رضا رضوی ، سید محمد کاظم رضا رضوی ، زیرک اللہ خان ، BS کمپیوٹر سائنس میں امین شیراز گیلانی ، عنابیہ عالم ، انس مسعود ، انوشہ فاطمہ ، بریرہ یوسف ، فطین نواز ، محمد حماد صدیقی ، سنبل زہرہ ، سید عفان اسلم ، سید شارق علی ، سید طابش اعظم ، سیدہ عنبرین زہرہ عابدی ، عکاشہ رفیق رحمت اللہ ، BSC آنرز سوشل ڈیویلپمنٹ اینڈ پالیسی میں آرتی لیلا رام ، عبد اوحید خان ، احمد سمیل حارث احتشام ، ایمن اشرف ، علی عباس محسن ، اریبہ عزیز راجپوت ، فروا حسن نقوی ، حفصہ خان ، حمزہ بن عارف ، حریم سلمان ، حسین فروا ،انفر خالد بیگ ، ارم شائستہ خان ، میشا عمران ، محمد احسان ، معیزہ صلاح الدین ، نازش رضوان ، نیہا پنجوانی ، سمیر نظا م الدین ، ثنا رضوان ، سارہ سہیل احمد ، شفات سلیم علی خواجہ ، شہا ب عثمانی ، ہشیرہ عبد الغنی پیسنانی ، شاہزیب ظفر ، سدرہ دارا، سمیر نظام الدین ، سید کمیل رضا ، سید محمد حسین زاہدی ، سیدہ سمن فاطمہ ، عمر خان ، عزیر ابراہیم ، BA آنرز کمیونیکیشن اسٹڈی اینڈ ڈیزائن میں انیس عامر ، انوشہ اعجاز ، ارقم خلدیہ خان ، اسمارہ فائق ، حمنہ عمر ، حرا وسیم ، کومل فاطمہ ، مہر ثاقب ملک ، مصبا اظہر چوہدری اوردیگر کو اسناد تقیسم کیں ۔