ایم کیو ایم کی طرف سے کوٹہ سسٹم کی مخالفت حقائق سے پردہ پوشی کے مترادف ہے،لیا قت ساہی

اتوار مئی 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) مزدور رہنما لیا قت علی ساہی نے ایم کیو ایم کی طرف سے ٹنکی گراؤنڈ میں جلسے میں ملک میں رائج کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کے مطالبہ پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے ایم کیو ایم جب سے وجود میں آئی ہے اس نے ترجیح بنیادوں پر کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ان کی قیادت آئین کے آرٹیکل3 پر عمل درآمد کرنے میں بُری طرح ناکام رہی جس کے تحت ملک کا دستور ریاست کو پابند کرتا ہے کہ جہاں بھی استحصال ہوگا اُسے ختم کیا جائے گا اس سلسلے میں ایم کیو ایم کی قیادت نے ریاست کے کسی بھی فورم پر آواز نہیں اُٹھائی۔

کوٹہ سٹم کا نفاظ بالخصوص سندھ صوبے کا اس تناظر میں جائزہ لیں تو اس کی بنیادوجہ یہ تھی کہ جب تک پسماندہ علاقوں میں ریاست تعلیمی ادارے قائم کرکے ملک کے دستور کی روشنی میں تمام طبقوں کو مساوی تعلیم فراہم نہیں کرتی اُس وقت تک پسماندہ علاقوں سے استحصال کا خاتمہ ناگزیر ہے چونکہ شہری علاقوں میں تمام طبقوں کو تعلیمی اداروں کی سہولتیں موجود ہیں لہٰذا دیہی علاقوں کے بچوں کے اس طرح کی سہولتیں ریاست فراہم کرنے میں ناکام ہے جس کی بنیاد پر اداروں میں پسماندہ علاقوں کے بچوں کو روزگار فراہم کرنا ممکن ہے اس لئے کوٹہ سسٹم کے تحت محروم طبقوں کے بچوں کو اداروں میں روز گار کو ممکن بنایا جائے ۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم گزشتہ تمام حکومتوں میں حصہ دار رہی ہے لیکن کسی بھی فورم پر اندرونِ سندھ تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کا مطالبہ ان کی طرف سے نہیں آیا جس کی واضح مثال سندھ کے پانچ ضلع میر پور خاص، عمر کورٹ تھرپارکر، بدین اور سانگھڑ میں ستر سالوں میں ایک بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی جہاں اس سلسلے میں دیگر اقتدار میں شامل پارٹیوں کی ذمہ دار ی تھی ایم کیو ایم بھی برابر کی اس جُرم میں شریک ہے کوٹہ سسٹم کی مخالفت نعرے کے طور پر تو پُرکشش ہے لیکن بنیادی طور پر ملک کے دستور کی خلاف ورزی ہے جب تک پسماندہ علاقوں میں کراچی کے معیار کے مطابق تعلیمی ادارے قائم نہیں کئے جائیں گے دستور کی روشنی میں مساوی بنیادوں پر تعلیم تمام طبقوں کو فراہم نہیں ہو سکتی ایم کیو ایم کے اس غیر سنجیدہ مطالبے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے تمام اضلاع میں یونیورسٹی اور پروفیشنل کالج قائم کرکے پسماند ہ علاقوں کو بھی تعلیم کی سہولتیں فراہم کی جائیں تاہم کوٹہ سسٹم کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔