پیشگوئیوں کے پیچھے ایمپائرکی موجودگی کا اشارہ مل رہا ہے،میاں افتخار حسین

مخدوم جاوید ہاشمی کی2014کے انکشافات اور الزامات کو سنجیدگی سے لیا جائے ،شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں، فیصلوں کی خبر کپتان کو پہلے کیسے ہو جاتی ہے چیف جسٹس سوموٹو لیں،نواز شریف کو اقتدار میں لانے میں فوج کا ہاتھ ہے تو پختونخوا میں پی ٹی آئی کو حکومت کس نے دلائی

اتوار مئی 19:11

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران خان کی پیشگوئیوں سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ بادی النظر میں کوئی ایمپائر موجود ہے جس کے فیصلوں کی خبر پہلے سے کپتان کو ہوتی ہے ، چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں اور جاوید ہاشمی کو طلب کریں جنہوں نے 2014میں عمران خان کے حوالے سے جو انکشافات کئے تھے بعد ازاں صحیح ثابت ہوئے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی پنج پیر میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوابی کے صدر اور ضلع ناظم امیر الرحمان خان ، جنرل سیکرٹری محمد اسلام خان اور گل زمین شاہ نے بھی خطاب کیا ، میاں افتخار حسین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں لہٰذا ہر فورم پر صبر وتحمل کا دامن تھامیں رکھیں اور دلیل کی بنیاد پر حوصلے سے سامنا کریں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن انتہائی منظم تنظیم ہے اور اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور یوتھ لیگ قائم کی اور این وائی او پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور سیاسی ونظریاتی تجربہ حاصل کر کے بہترین کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جن میں سے کل کے رہنما اور سیاسی قائدین نکلیں گے،،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ،انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہے لہٰذا دوسروں کو قائل کرنے کیلئے دلیل اور علم کے ذریعے بات کریں، انہوں نے کہا کہ ولی خان بابا کی شخصیت تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے جنہوں نے بعد ازاں خدائی خدمت گار تحریک کے تسلسل کو آگے بڑھایا اور اپنی کوششوں اور قربانیون سے صوبے کے حقوق کی جنگ لڑی جسے باچا خان کے پیروکاروں نے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اٹھارویں ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ اور صوبے کی شناخت کی صورت میں حاصل کیااور اسی کامیابی کو اے این پی 7مئی کو جشن خیبر پختونخوا کے طور پر منا رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نواز شریف کو اقتدار میں لانے کیلئے فوج کے کردار کے حوالے سے عمران خان کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے اگر اس میں حقیقت ہے تو کپتان بتائیں کہ خیبر پختونخوا میں انہیں حکومت میں لانے کیلئے کس کا ہاتھ تھا ، انہوں نے کہا کہ قوم کو وضاحت دی جائے تا کہ غلط فہمیاں دور ہو سکیں ،بی آر ٹی کی حالیہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے کے افسران کو عہدوں سے ہٹا نے کے بعد وزیر اعلیٰ ایکسپوز ہو چکے ہیں اور کرپشن کی تمام داستان کھل کر عوام کے سامنے آ چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے اس منصوبے کو صرف کمیشن اور کرپشن کیلئے شروع کیا انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں تھی بسیں بذریعہ سڑک چین سے منگوانے کی جلدی کیوں کی جا رہی ہے اب نیب کی زمہ داری ہے کہ وہ ان تمام افسران کے الزمات کی روشنی میں تحقیقات کرے،انہوں نے کہا کہ جب یہ منصوبہ پہلے سے ہی کتاب میں تھا تو اربوں روپے بلین سونامی ٹری پر کیوں ضائع کئے گئے جو بعد میں بی آر ٹی کی زد میں آ کر ختم ہو گئے ،انہوں نے کہا کہ یو این کی طرف سے خواتین کیلئے عطیہ کی گئی بسوں پر ہاتھ صاف کرنے اور انہیں بی آر ٹی میں لانے کی کوشش سے عوام کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، وزیر اعلیٰ اس حوالے سے قومی مجرم ہیں، انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جماعت اسلامی کا کردار سمجھ سے بالاتر ہے جو حکومت میں بھی نہیں اور حکومت کو سہارا بھی دیئے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ کسی طور پیش نہیں کر سکتی کیونکہ ممبران پر دباؤ ڈالنے سے بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے پاکستان کے عوام سے اپیل کی کہ بوگس11نکات پر یقین کرنے سے پہلے خیبر پختونخوا کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ یہاں صوبے کی کیا حالت کر دی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ انتخابات کا التوا ملک دشمنوں کی سازش ہے اور ایسے عناصر ملک اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے درپے ہیں آئین میں مقررہ وقت پر انتخابات کرانے کے حوالے سے شق موجود ہے اور غیر ضروری التوا آئین شکنی کے مترادف ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی فتح ہے اور اسے رول بیک کرنے کی اجازت نہیں دینگے ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں حقوق غصب کرنے کی پالیسی کی صورت میں ملک دولخت ہو گیا لہٰذا اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے والے ایسی کسی حرکت سے باز رہیں جس کا نقصان ملک کو ہو ،،انہوں نے کہا کہ اب یہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کے حقوق ہمیشہ سے مرکز نے غصب کئے جبکہ اب موجودہ صوبائی حکومت نے بھی پختونوں کے خلاف مرکز کا ساتھ دیا ،انہوں نے سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم مرکز میں نواز شریف نے دھوکہ دیا جس کے نتیجے میں انہیں پختونوں کی بد دعائیں لے ڈوبیں، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ،کالابغ ڈیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں نے متفقہ طور پر اس مردہ گھوڑے کو دفن کر دیا ہے اب دوبارہ اسے زندہ نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ عدالت ایسے ایشوز نہ اٹھائے جس سے اس کی اپنی حیثیت متنازعہ ہو ، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم اب کسی صورت نہیں بن سکتا اور اگر ایسا ہوا تو سب سے پہلے اے این پی اس کے خلاف میدان میں ہوگی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :