عرس میں سیہون پہنچنے والے زائرن کو سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ

اتوار مئی 19:11

سیہون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) معروف صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندرؒ کے عرس مبارک پر سہون شریف پہنچنے والے زائرین کو سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سہون شریف کی طرف سے چوبیس گھنٹے معیاری اور جدید طرز کی طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ۔پچاس بستروں پر مشتمل اس جدید عمارت کے اندر ستر ماہر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر فنی عملہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کر رہا ہے۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ڈپٹی کمشنر جامشورو کیپٹن (ر)فرید الدین مصطفی کی خصوصی ہدایات پر لال شہباز قلندر کے زائرین کو انسٹیٹیوٹ کی طرف سے معیاری اور جدید طرز کی طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ ان طبی سہولیات کی مسلم نگرانی بھی کی جارہی ہی: ڈائریکٹر ڈاکٹر معین الدین صدیقیحضرت لال شہباز قلندر کے 766 ویں عرس مبارک پر سہون شریف پہنچنے والے زائرین کو سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سہون شریف کی طرف سے چوبیس گھنٹے معیاری اور جدید طرز کی طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ، جس کے تحت تازہ تعمیر شدہ پچاس بستروں پر مشتمل اس جدید عمارت کے اندر ستر ماہر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر فنی عملہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کر رہا ہے، اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ میں چالیس ایمبولنس بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر معین الدین صدیقی نے آج میڈیا کو بتایا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ڈپٹی کمشنر جامشورو کیپٹن (ر) فرید الدین مصطفی کی خصوصی ہدایات پر لال شہباز قلندر کے زائرین کو انسٹیٹیوٹ کی طرف سے معیاری اور جدید طرز کی طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ ان طبی سہولیات کی مسلم نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سہون شریف میں مختلف 15 مقامات پر طبی کیمپ بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں پر ہیٹ اسٹروک سینٹر بھی بنائے گئے ہیں جبکہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، جوسزاور دوائیں بڑی تعداد میں موجود ہیں، ہر کیمپ پر ایک ایمبولنس بھی چوبیس گھنٹے موجود رہتی ہے جبکہ انڈس ہائی وے پر ہر 25 کلومیٹر کے بعد ایک طبی کیمپ لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ عرس مبارک کے موقع پر قدرتی طور پر فوت ہونے والے چند زائرین کو انسٹیٹیوٹ کی طرف سے سرکاری اخراجات پر ان کی میتیں ان کے آبائی شہروں تک پہنچائی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انسٹیٹیوٹ میں ایک ایمرجنسی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کررہا ہے تاکہ آس پاس اور سہون شریف میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔