مقبوضہ کشمیر کی آٹھ سالہ آصفہ کے ملزمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے،سردار مسعود خان نے

اتوار مئی 19:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے ممبر برٹش پارلیمنٹ و شیڈو منسٹر مسٹر افضل خان کے ہمراہ اسلام آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے جس طرح مقبوضہ کشمیر کی آٹھ سالہ آصفہ بانوکے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اس کے بیمانہ قتل کی مذمت کی ہے اور ہندوستان کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اس پر مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کے آصفہ کے ملزمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ صدر ریاست نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ریاستی دہشت گردی سے کبھی حل نہیں ہوگا اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے ۔ صدر ریاست نے اس موقع پر مسٹر افضل خان کے ذریعے برطانوی تارکین وطن اور پاکستانی اور کشمیری نژاد ، ممبران پارلیمنٹ کو یہ پیغام بھیجوایا کہ وہ برطانیہ میں ہائوس آف کامنز میں پرائم منسٹر کے سوالوں کے وقفے کے دوران مسئلہ کشمیر کو بار بار اٹھائیں ۔

(جاری ہے)

اس کے ساتھ ساتھ برطانوی دفتر خارجہ میں بھی اس مسئلے کو بار بار اٹھایا جائے اور ہائوس آف کامنز میں بھی اسے وقتاً فوقتاً اٹھانا چاہیے۔ اور اس کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ کی سائیڈ لائنز میں بھی اٹھانا چاہیے۔ صدر نے کہا کہ برطانیہ میں آل کشمیر پارلیمنٹری گروپ بھی موجود ہے جو اپنا کام انتہائی ذمہ داری اور احسن طریقے سے کر رہا ہے ۔ ہم برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیر ی نژار ، ممبران پارلیمنٹ کے شکر گزار ہیں کہ وہ کشمیر کاز کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کررہے ہیں ۔

اس موقع پر مسٹر افضل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اس لئے برطانیہ پر یہ دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جنوبی ایشیاء میں نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ہے پاکستان اور ہندوستان دونوں نیو کلیئر طاقتیں ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو خدانخواستہ ان دونوں ملکوں کے مابین جنگ پوری انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اقوام متحدہ کا مستقل ممبر ہے اور ایک مہذب ویلفیئر اسٹیٹ ہے جہاں انسانی حقوق کا بھر پور خیال رکھا جاتا ہے ۔ برطانیہ کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نوٹس لے اور ہندوستان پر اپنا دبائو ڈالے کہ وہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرے۔ افضل خان نے کہا کہ اگر برطانوی آئر لینڈ میںریفرنڈ م ہو سکتا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ حق کیوں نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے اندر کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی دن بدن سیاسی طور پر مضبوط اور مستحکم ہو رہی ہے تو امید ہے کہ وہ مستقبل میں زیادہ موثر طریقے سے کشمیر کا مقدمہ لڑے گی۔ صدرمسعود خان اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ نے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دئیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کشمیر پر اپنی جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک جاری و ساری رکھیں گے۔پریس کانفرنس میں کثیر تعداد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ راٹھور