سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا گوادر کیلئے پانی کی سکیموں کیلئے فنڈز اور کوئی میگا منصوبہ شروع نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار

گوادر میں ترقیاتی کاموں کیلئے 25ارب میں سے ابھی تک صرف دس ارب ہی جاری کیے گئے ہیں،کمیٹی میں انکشاف

اتوار مئی 19:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سی پیک منصوبوں کے تحت اور حکومتی اعلانات کے باوجود گوادر کی مقامی آبادی کیلئے پانی کی سکیموں کیلئے فنڈز جاری نہ کرنے اور کوئی میگا منصوبہ شروع نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جبکہ گوادر کیلئے 2004میں 25ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے معاملے کو وزارت پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور وزارت فنانس کے حکام ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ گوادر میں ترقیاتی کاموں کیلئے رکھے جانے والے 25ارب میں سے ابھی تک صرف دس ارب ہی جاری کیے گئے ہیں جن سے صرف گوادر میں سڑکیں بچھائی گئی ہیں جبکہ پانی کا کوئی بھی منصوبہ شروع نہ کیا جاسکا ۔ گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں بلوچستان بالخصوص گوادر کے حوالے سے سینیٹر بابر احمد نے کمیٹی سے واک آئوٹ کیا اور کمیٹی نے بھی دونوں وزارتوں کے رویے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر یہ لوگ اپنا کام نہیں کرسکتے تو آپ کا کام بھی ہم کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

گوادر میں ٹینکر مافیا کی مناپلی کی وجہ سے فی ٹینکرپانی25ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کمیٹی نے دونوں وزارتوں کے حکام کو سفارش کی اور ایک نوٹ بھی لکھا کہ 25ارب روپے میں سے بقایا 15ارب روپے کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ بنا کر دیں اور بر وقت ادائیگیاں یقینی بنائیں تاکہ گوادر کے عوام کے مسائل جلد از جلد حل ہو سکیں۔

متعلقہ عنوان :