سندھ میں 571سیکورٹی اہلکار اور 59گاڑیاں منتخب عوامی نمائندوں کی سیکورٹی پر مامور

غیر منتخب لوگوں کی سیکورٹی پر 226 اہلکار اور 17گاڑیاں ڈیوٹی دے رہی ہیں ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کی سیکورٹی پر 16 اہلکار ،ایک پولیس کی گاڑی تعینات غیر منتخب نمائندوں میں آفاق احمد کی سیکورٹی پر 16 اہلکاراور دو پولیس کی گاڑیاںمامور مصطفیٰ کمال کے پاس 15سیکیورٹی گارڈ اور دو پولیس کی گاڑیاں ہیں ۔ بلوچستان میں نواب ثناء اللہ زہری کے پاس 27سیکیورٹی اہلکار،سردار اختر مینگل کے پاس 23اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں

اتوار مئی 19:20

ًِّاسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) صوبہ سندھ میں 571سیکیورٹی اہلکار اور 59گاڑیاں منتخب عوامی نمائندوں کی سیکیورٹی پر مامور ہیں جبکہ غیر منتخب لوگوں کی سیکیورٹی پر 226سیکیورٹی اہلکار اور 17گاڑیاں ڈیوٹی دے رہی ہیں۔ بلوچستان میں 744سیکیورٹی اہلکار منتخب اور غیر منتخب نمائندوں کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔ سندھ میں پارلیمنٹیرینز میں سے سب سے زیادہ سیکیورٹی ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کے پاس ہے جس میں 16سیکیورٹی اہلکار اور ایک پولیس کی گاڑی شامل ہے۔

غیر منتخب نمائندوں میں سب سے زیادہ سیکیورٹی چیئرمین ایم کیو ایم حقیقی آفاق احمد کے پاس ہے جس میں 16سیکیورٹی اہلکاراور دو پولیس کی گاڑیاں شامل ہیں ۔ چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال کے پاس 15سیکیورٹی گارڈ اور دو پولیس کی گاڑیاں ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ صوبہ بلوچستان میں سب سے زیادہ سیکیورٹی نواب ثناء اللہ زہری کے پاس ہے 27سیکیورٹی اہلکار ان کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔

دوسرے نمبر پر سردار اختر جان مینگل کے پاس 23اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ آن لائن کے پاس سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبہ سندھ میں منتخب اور غیر منتخب نمائندوں کی سیکیورٹی کیلئے 797پولیس اہلکار ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 76پولیس کی گاڑیاں بھی ان کی سیکیورٹی شامل ہیں۔ سندھ میں پارلیمنٹیرینز میں سے پہلے نمبر پرڈپٹی سپیکر شہلا رضا کے پاس 16پولیس اہلکار اور ایک پولیس کی گاڑی ڈیوٹی دے رہی ہے۔

سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے پاس 12پولیس اہلکار اور ایک پولیس کی گاڑی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے۔ سندھ کے ۔۔۔ منسٹر نثار احمد کھوڑو کے پاس 13پولیس اہلکار اور ایک پولیس کی گاڑی ہے۔ جام خان شورو کے پاس 15پولیس اہلکار اور دو پولیس کی گاڑیاں ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک کے پاس 12پولیس اہلکار اور ایک پولیس وین ڈیوٹی دے رہی ہے۔ سندھ پولیس کے 12اہلکار اور اتیک پولیس وین قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خور شید شاہ کی سیکیورٹی پر معمور ہیں ، سندھ میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہا الحسن کی سیکیورٹی پر 12پولیس اہلکار اور ایک پولیس کی گاڑی سیکیورٹی کیلئے ڈیوٹی دے رہی ہے۔

جبکہ سندھ میں چیئرمین ایم کیو ایم حقیقی آفاق احمد کے پاس 16پولیس اہلکار اور دو پولیس کی گاڑیاں ہیں جو ان کی سیکیورٹی پر معمور ہیں۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال کے پاس 15سیکیورٹی اہلکار اور دو پولیس کی گاڑیاں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی کی سیکیورٹی پر 12اہلکار اور دو پولیس کی گاڑیاں ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

پی ایس پی کے سینئر رہنما صغیر احمد انصاری کے پاس گیارہ پولیس اہلکار اور ایک پولیس وین موجود ہے جو ان کی سیکیورٹی پر معمور ہے۔ صوبہ سندھ میں 415سیکیورٹی اہلکاروں کو صوبائی حکومت نے عارضی طور پر پارلیمنٹیرینز کی سیکیورٹی پر رکھا ہوا ہے جس میں سے 271اہلکار ایم این ایز کی سیکیورٹی پر معمور ہیں۔ 72سیکیورٹی اہلکار ایم این ایز کی سیکیورٹی پر معمور ہیں جبکہ 329مستقل اہلکار پارلیمنٹیرینز کی سیکیورٹی کیلئے ممعمور ہیں۔

بلوچستان میں سب سے زیادہ سیکیورٹی نواب ثناء اللہ زہری کو فراہم کی گئی ہے۔ جس میں 27اہلکار شامل ہیں۔ دوسرے نمبر پر سرادار اختر مینگل ہیں جنکی سیکیورٹی پر 23اہلکار معمور ہیں ۔ عبدالمالک بلوچ کی سیکیورٹی پر 19اہلکار اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں سابق وزیر اعظم میر ظفرا للہ جمالی کی سیکیورٹی پر صرف 4سیکیورٹی اہلکار ہیں۔ سرفرازاحمد بگٹی کی سیکیورٹی پر گیارہ اہلکار تعینات ہیں ، ایم این ایز میں سب سے زیادہ سیکیورٹی جام کمال خان کو فراہم کی گئی ہے ان کی سیکیورٹی پر دس اہلکار ہیں۔ سینیٹرز میں سے عبدالغفور حیدری اور نواب سیف اللہ مگسی کو 44اہلکار سیکیورٹی کیلئے دئیے گئے ہیں۔