جہلم، شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ منسوخ،عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی

اتوار مئی 19:20

جہلم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ منسوخ،عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی تفصیلات کے مطابق خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف نے جہلم کے لوگوں سے محبت کا جذبہ رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہیپاٹائٹس کے بلاک کا افتتاح کرنے کے ساتھ ساتھ 18کروڑ 70لاکھ روپے سے ہونے والی تزہین وآرائش کا معائنہ کرنا تھا لیکن اچانک موسم خراب ہوا اور ان کا دورہ منسوخ ہو گیا جبکہ اہلیان جہلم جو ان کے جہلم آنے کی وجہ سے بہت خوش تھے مایوسی کا شکار ہو گئے ایک سروے میں لوگوں نے بتایا کہ جس طرح ضلع جہلم کے لوگوں نے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو منتخب کروانے میں اپنا کردارادا کرتے ہوئے یہاں سے مسلم لیگ ن کو کلین سویپ کروایا لیکن میاں شہباز شریف کی طرف سے پانچویں مرتبہ دورہ منسوخ ہونا حیران کن بات ہے جبکہ اس مرتبہ انتظامیہ کی پھرتیوں کو دیکھتے ہوئے کیونکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ان کے دورہ کیلئے تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے اور لوگ کو یقین ہو چکا تھا کہ اس دفعہ چونکہ میونسپل کمیٹی کے تمام سینٹری سٹاف کے ساتھ ساتھ سپاس نامہ بھی تیار ہو چکا ہے اور پوری انتظامیہ حرکت میں آکر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ صفائی کے تمام انتظامات کررہی ہے جس سے ان کا دورہ یقینی ہے جبکہ شہر کے معززین نے اپنے نئے کپڑے نکال کر پہننے کیلئے تیار رکھے تھے اور وہ اس تقریب میں جانے کی تیاری کررہے تھے کہ خادم اعلیٰ پنجاب اس ضلع کے باسیوں سے زیادہ محبت رکھتے ہوئے اس شہر کے پرانے سیوریج نظام کو ختم کر کے نیا سیوریج نظام دینے کے ساتھ ساتھ واٹر سپلائی کی نئی سکیمیں دیںگے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں صدیوں سے بنے ہوئے نرسنگ کوارٹرز کو گرا کر نئے ماحول کے مطابق انہیں باپردہ رہائشی ماحول فراہم کریںگے اسی طرح ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز کی رہائش کیلئے ایک نئی کالونی بنانے کا اعلان بھی کریںگے لیکن تمام لوگوں کیلئے ان کا دورہ منسوخ ہونے کے ساتھ تمام خواب ٹوٹے گئے کیا وجہ جہلم آئیںگے اور جہلم کی ترقی میں اپنا کردارادا کریںگے کیونکہ موجودہ حکومت کا دورانیہ کم ہوتا جارہا ہے یہ خادم اعلیٰ پنجاب اور ان کی کابینہ کے تمام وزراء کے ساتھ ساتھ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ اگر یہی صورتحال رہی تو مسلم لیگ ن کو آئندہ آنے والے انتخابات جیتنے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑیگی جس سے انتخابات میں انتخابی موسم خراب بھی ہو سکتا ہے۔