قتل ،ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب 3خطرناک ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ، ایک فرار ہو گیا

اتوار مئی 19:30

بوریوالا۔6 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) قتل ،،ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب 3خطرناک ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ، تفصیلات کے مطابق ڈی پی او وہاڑی کی ہدایت پر خطرناک ملزموں کو پکڑنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ، جس نے وکیل اور پولیس کانسٹیبل کے قاتل ملزمان کو پکڑنے کے لیے نہر کھادر پل جوئیہ بنگلہ پر ناکہ بندی کی ہوئی تھی کہ ایک ڈبل کیبن ڈالہ وہاں سے گزرنے لگاتو پولیس نے اسے رکنے کا اشارہ کیا جس میں سے 4نا معلوم افراد مسلح آتشیں اسلحہ نیچے اترے اور پولیس کو دیکھ کر سیدھی فائرنگ شروع کر دی، پولیس نے بھی حفاظتی خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی ،ملزمان کی فائرنگ سے سرکاری گاڑی کو کافی نقصان پہنچا، پولیس نے وقفہ وقفہ سے ملزمان پر اپنی فائرنگ جاری رکھی اورملزمان کے ساتھ مقابلہ کے لیے وائرلیس پر مزید نفری طلب کر لی جس پر مدد کے لیے ایس ایچ او تھانہ فتح شاہ نادر خان بلوچ بھی پولیس کے نفری کے ہمراہ مقابلہ کی جگہ پر پہنچ گئے، فائرنگ رکنے کے بعد موقع پر جا کر دیکھا کہ 3افراد فائرنگ سے جا ںبحق ہو چکے تھے جبکہ ان کا ایک نا معلوم ساتھی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار گیا، مارے جانے والوں کی شناخت یاسر ڈوگرولد عبدالستار ڈوگرسکنہ ڈوگر مارکیٹ صادق ٹائون بورے والا ،معراج احمد ولد ریاض احمد موہل سکنہ 311ای بی بورے والا اور محمد بوٹا ولد اعجاز احمد سکھیرا سکنہ چک نمبر 321ای بی بورے و الا کے ناموں سے ہو ئی ہے، ملزمان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ رائفل 44بورکپہ ،پسٹل 30بور،میگزین اور گولیاں،واردات میں استعمال ہونے والے موبائل فون برآمد ہو ئے، ہلاک ہونے والے ملزمان کے خلاف مختلف تھانوں میں قتل ،،ڈکیتی،،اغواء برائے تاوان اور ناجائز اسلحہ کے ایک درجن سے زائد مقدمات درج تھے، ملزمان یاسر ڈوگر،بوٹا سکھیراعدالتی مفرور بھی تھے جبکہ ملزم معراج موہل 302کا اشتہاری تھا ،،پولیس نے تمام کارروائی مکمل کر کے ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی سے پوسٹمارٹم کے بعد ملزمان کی نعشیں پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیں، دریں اثناء پولیس نے اغواء برائے تاوان کے ملزمان کی سہولت کاری کے الزام میں تھانہ صدر بورے والا کے سرکاری ڈرائیور رانا ذوالفقار حسین اور سابق ایم این اے کے ایک گن مین قیوم اور قیوماسندھواور اس کے دیگر ساتھی کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا۔