تفصیلی خبر )

خلائی مخلوق کے بارے میں جس نے بیان دیا وہی بیان کر سکتا ہے، سینیٹر سراج الحق ملک کو کسی ایٹم بم سے خطرہ نہیں بلکہ ملک کو تقسیم نے اور کو لہولہو کرنے والے حکمرانوں سے ہے، دینی جماعتوں کا اتحاد بیرونی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں کیلئے پیغام ہے اب ان کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہاں پر اسلامی نظام نافذ ہوکررہیگا علماء اکرام قیادت کے لیے تیار ہوجائیں۔قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ بادشاہ بنا تھا اس کی بادشاہت ختم ہو رہی ہے،نئے بجٹ میںقبائیلی عوام کو دس بلین د ے کر ٹرخایا گیا اس کو مسترد کرتے ہیں،: پشاور میں تقریب سے خطاب ومیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

اتوار مئی 19:40

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے ہمارے ملک کو کسی ایٹم بم سے خطرہ نہیں بلکہ ملک کو تقسیم کرنے اور کو لہولہو کرنے والے حکمرانوں سے ہے،دینی جماعتوں کا اتحاد بیرونی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں کیلئے پیغام ہے کہ اب ان کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ،یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہاں پر اسلامی نظام نافذ ہوکررہیگا،علماء اکرام قیادت کے لیے تیار ہوجائیں۔

قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ بادشاہ بنا تھا اس کی بادشاہت ختم ہو رہی ہے،نئے بجٹ میںقبائیلی عوام کو دس بلین د ے کر ٹرخایا گیا اس کو مسترد کرتے ہیں،خلائی مخلوق کے بارے میں جس نے بیان دیا وہی بیان کر سکتا ہے، ووٹر کا اعتماد مجروح ہوا ہے الیکشن کمیشن کردار ادا کرے، موجودہ حکومت نے پنتیس لاکھ طلبہ کے لئیے کوئی بجٹ نہیں رکھا افسوسناک ہے، دینی مدارس کے پینتیس لاکھ طلبہ کیلئے بجٹ میں ایسے حصہ مختص کیا جائے جیسے سکولوں اور یونیورسٹی کیلئے رکھاجاتاہے،متحدہ مجلس عمل کے قیام سے گالم گلوچ کرنے کی سیاست کرنے والوں کی سیاست کاوقت ختم ہوگیا،حکمران دینی مدارس کی جانب سے آڈٹ نہ کرانے کاڈنڈورہ پیٹ رہے ہیں لیکن جب دینی مدارس کو فنڈ ہی نہیں دیا جاتا وہ کس چیز کی آڈٹ کرائیں، اس بجٹ کو مسترد کرتا ہو ںجس میں دینی مدارس کے لئیے کچھ نہیں، نظریہ اور ملک کا دفاع دینی مدارس ہی کرتے ہیں،باہر سے حملہ آوروں کیساتھ خان خوانین مل جاتے ہیں علماء ان کا مقابلہ کرتے ہیں،ملک میں امن کا قیام اسلامی نظام سے مشروط ہے اسلامی نظام قائم ہوگی تو ملک امن کا گہوارہ بن جائیگا،نوجوان علماء کو یقین دلاتا ہو کہ انہیں اسلامی حکومت دینگے، پاکستان کی ساری معیشت سود کی بنیاد پر ہے،،پاکستان میں لسانی مسلک کی بنیاد پر تنگ نظری ہے، باہر سے آنے والوں کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا، گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے،اب ظالم جاگیردار، کرپٹ سرمایہ دار کا دور ختم ہو رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اثریہ چمکنی پشاور میں مدرسے سے فارغ التحصیل طلبہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پرسیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبرپختونخواعبدالواسع،امیر جماعت اسلامی ضلع پشاورصابر حسین اعوان ،انتخاب خان چمکنی ،واصل فاروق اور دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آپ بہت اچھے ہیں لیکن آپ کو حکومت نہیں مل سکتی اس لئے کہ امریکہ آپ کو پسند نہیں کرتاہم شکر ادا کرتے ہیں کہ امریکہ ہمیں پسند نہیں کرتا،میں بتاناچاہتاہوں کہ دنیا میں ایسے بہت کام ہوئے ہیں جوامریکہ کو پسند نہیں تھے امریکہ کو توویتنام میں شکست بھی پسند نہیں تھالیکن انہیں ویتنام میں ایسی شکست ہوئی جو تاریخ کا حصہ بن چکاانہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد اب اسلامی انقلاب کاراستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی اب امت متحد ہوچکی ہے اور انشاء اللہ آنے والے انتخابات میں امریکی اسٹبلشمنٹ کے آلہ کاروں کو ہمیشہ کیلئے مسترد کریگی۔

(جاری ہے)

سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ملک کی ترقی اسلامی نظام سے وابستہ ہے اسلامی حکومت قائم ہوگی توملک ترقی کریگا،انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے خلائی مخلوق کا بیان دے دیا ہے عمران خان نے 2013 میں نادیدہ قوت کا بیانیہ دیا تھا،دونوں بیانییے الیکشن اور بیلٹ بکس کے لئیے خطرہ ہے، خلائی مخلوق کے سوال کا جواب وہی دیں جنہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کی بڑی فوج عراقی فوج تھی آج عراق کو تباہ کرکے استعماری طاقتیں تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیںاور اسلامی دنیا کی معدنیات پر قبضہ جماناچاہتے ہیں،عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اسلامی دنیا کو خون میں نہلادیا ہے اور اسلامی ممالک کو میدان جنگ بنا رکھا ہے انہوں نے کہا کہ دشمن شہادت اور جہاد کی لفظ سے ڈرتا ہے، جہاد آزادی اور غلامی سے نجات کا نام ہے انہوں نے کہا کہ ،علمائے کرام پر بڑی ذمہ داری عائید ہوتی ہے، موجودہ حکومت کی جانب سے پنتیس لاکھ طلبہ کے لئے نئے بجٹ میں کوئیحصہ نہیں رکھاجو افسوسناک ہے، کیا دینی مدارس کے طلبہ پاکستانی نہیں کیا دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کا قومی خزانے پر حق نہیں یایہ سٹوڈنٹ نہیں،پھر حکمران کہتے ہیں کہ دینی مدارس آڈٹ نہیں کراتیں انہوں نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ دینی مدارس کو ایک پیسہ نہیں دیتے اور ان سے آڈٹ مانگتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہی دینی مدارس پاکستان کی سالمیت اور بقاء کی ضمانت ہیں جب بھی ملک پر کوئی حملہ آور ہو اتو یہ خوانین اور وڈھیرے دشمن سے مل جاتے ہیں ملک کو دو لخت کرتے ہیں لیکن یہی مدارس اپنے ملک کی حفاظت میں سب سے آگے ہوتے ہیںتقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پشاور کی بیوٹیفیکیشن پر بڑا پیسہ خرچ ہوا تھا،اور ہر طرف پھول اور سرسبز ماحول تھالیکن اب تاخیر کیساتھ بی آر ٹی منصوبہ شروع ہوا اب شہر اور شہری پریشان ہے، انہوں نے کہاکہ اب ہم حکومت کا حصہ تو نہیں ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ منصوبہ مزید لیٹ نہ ہواور عوام کی خواہش کے مطابق یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو انہوں نے کہا کہ ہم تعاون کے لیے تیار ہیں مگر اب افسران کی برطرفی کے بعداسکا بروقت مکمل ہونا خطرے میں پڑ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے بحال ہو گئی ہے دوسرے سیاسی جماعت کیطرح نہیں، الیکشن کے بعد کون کس کا ساتھ دیگا یہ وقت بتائے گا،قبائلی علاقوں میں کالا قانون تھا پولیٹیکل ایجنٹ بادشاہ بنا تھا اس کی بادشاہت ختم ہو رہی ہے،اب قبائلی علاقوں کے عوام کو ترقی چاہئے قبائلی علاقوں کیلئے بڑے پیکیج کی ضرورت ہے لیکن حکمرانوں نے قبائیلی عوام کو دس بیلین دینے بر ٹرخایادیاانہوں نے کہا کہ ہم ا اس کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا مہنگائی بڑھی،یہی حکمران ملک میں میر جعفراور میرصادق کا کردار اداکررہے ہیں،ان حکمرانوں کی انااور نااہلی کی وجہ سے ملک ولخت ہوا،ملک میں بدامنی کے ذمہ دار یہی حکمران ہیں اور انہوں نے ملک کو مسائلستان بنادیا ہے ،قوم کو آئی ایم ایف کے قرضوں کی زنجیروں میں جھکڑ رکھاہے اور مسلسل آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر آنے والی نسلوں کو جھکڑاجارہاہے ،انہوں نے کہا کہ جو بجٹ پیش کیاجانیوالا ہے وہ آئی ایم ایف کا بنا ہوا بجٹ ہے ہم ایسے بجٹ کو مکمل مسترد کرتے ہیں جو بیرونی اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا ہو۔

انہوں نے کہا آج اگر انڈیا ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے تو ہماری نااہل قیادت کی وجہ سے آنکھیں دکھا رہا،،انڈیا سے کوئی خطرہ ہیں ہم انڈیا کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ آج عالم کفر اسلحہ ایٹم بم سے نہیں مدارس مساجد اور علماء سے ڈرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست حکومت کیلیے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے،اگر حکمران اسلامی نظام نافذ کرتے تو ہم خادم بننے بھی کے لیے تیار ہوتے،انہوں نے کہا کہ اہل کفرنے تعلیمی اداروں، سیاست۔

،قیادت پر قبضہ کیا ہواہے،حکومت بھی انکی غلامی کرتی ہے اور اپوزیشن بھی لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہونے والا ہے ،،امریکہ نے افغانستان کو ٹھکانہ بناکر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن اب امریکہ تاریخی شکست سے دوچار ہے اور افغانستان سے نکلنے کیلئے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے انہوں نے کہا کہ اب دینی جماعتیں متحد ہوچکیں ہیں اور ہم قوم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ ظلم کی ادھیری رات ختم ہونے والی ہے اور ایک پرامن اسلامی انقلاب ملک کی دہلیز پر ہے اب کوئی طاقت اسلامی انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ہم اس وقت بھی جلسے کرتے رہے جب وہاں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی پورے قبائلی خطے میں اگر سب سے پہلے کسی نے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں ہیں تو وہ جماعت اسلامی ہے اور یہی وجہ ہے جماعت اسلامی قبائلی علاقوں میں ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکی ہے، سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے سیاسی رہنما کئی دنوں سے انتخابات میں خفیہ ہاتھوں اور نادیدہ قوتوں کے کام دکھانے کے بیانات دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ 2013 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی کے پیچھے خفیہ ہاتھ کارفرماتھے اور 2018 ء کے انتخابات میں بھی خفیہ ہاتھ کام دکھائے گا ۔

پی پی پی اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ایک ہوگیاہے ۔ دونوں ایک ہی ادارے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہارکر رہی ہیں اور رازوں کی باتیں کی جارہی ہیں، اب یہ رازو نیاز ختم ہونے چاہئیں، عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق ملنا چاہیے۔ ایسے بیانات سے عام آدمی حیران و پریشان ہے انتخابی نظا م کی چولیں ہل گئی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پورے انتخابی سٹرکچر کا جائزہ لینا اور خامیوں کو دو ر کرناہوگا ۔