2013ء میں دھاندلی ہوئی تو سب جماعتیں اس میں ملوث ہیں، سب ہی اقتدار میں شریک ہیں،پہلی بار ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سب حکومت میں ہیں ،صرف اپوزیشن ہی اپوزیشن میں نہیں تھی، ہر الیکشن میں دھاندلی اس پارٹی نے کی جو اقتدار میں آئی،شوگر اور لینڈ مافیا کے فرعون حامی بن جائیں تو لیڈر میں دو تبدیلیاں ضرور آتی ہیں، لینڈو شوگر مافیا کی دولت کے بل پر اقتدار میں آنے والا حکمران مافیا تبدیلی نہیں لاسکتا، لوٹ کے مال اور انتخابی امیدوار کارشتہ ختم ہونے تک تبدیلی آسکتی نہ ہی عوام کی حکمرانی کا خواب پورا ہوگا، آئندہ انتخابات میںمقابلہ پانچ سال برسراقتدار حکمران مافیا، لینڈ مافیااور شوگرمافیا‘ کی ٹرائیکا میں ہے،اصل مقابلہ ’حکمران مافیا‘، اُن کے پشتیبان ’لینڈ مافیا‘ اور ’شوگرمافیا‘ کی کالی دولت میں ہوگا

سابق وفاقی وزیراطلاعات محمد علی درانی کی میڈیا سے گفتگو

اتوار مئی 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ 2013ء میں دھاندلی ہوئی تو سب جماعتیں اس میں ملوث ہیں، سب ہی اقتدار میں شریک ہیں۔پہلی بار ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سب حکومت میں ہیں۔ صرف اپوزیشن ہی اپوزیشن میں نہیں تھی،صرف اپوزیشن ہی اپوزیشن میں نہیں تھی، ہر الیکشن میں دھاندلی اس پارٹی نے کی جو اقتدار میں آئی،شوگر اور لینڈ مافیا کے فرعون حامی بن جائیں تو لیڈر میں دو تبدیلیاں ضرور آتی ہیں، لینڈو شوگر مافیا کی دولت کے بل پر اقتدار میں آنے والا حکمران مافیا تبدیلی نہیں لاسکتا ، فوج اور عدلیہ سیاسی مافیا کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو خلائی مخلوق نہیں کہلائے گی،لوٹ کے مال اور انتخابی امیدوار کارشتہ ختم ہونے تک تبدیلی آسکتی نہ ہی عوام کی حکمرانی کا خواب پورا ہوگا۔

(جاری ہے)

اتوار کو میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کالے دھن کی پیداوار آمرانہ رویوں کامالک ہر سیاستدان عدلیہ اور فوج پر الزام ضرورلگاتا ہے۔ شوگر اور لینڈ مافیا کے فرعون حامی بن جائیں تو لیڈر میں دو تبدیلیاں ضرور آتی ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے مخلص کارکنوں سے کًٹ کر آمر مطلق بن جاتا ہے ۔ اُس میں یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ ملک کا ہر آزاد ادارہ اُن کی سیاہ سرمایہ کاری اور منافع کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

ایسے لیڈروں کو اقتدار قریب آتے ہی نسبتا آزاد دونوں قومی ادارے کھٹکنے لگتے ہیں۔ محمد علی درانی نے کہاکہ 2013ء ہو یا کوئی اور الیکشن ، ہر الیکشن میں دھاندلی اس پارٹی نے کی جو اقتدار میں آئی۔ ایک سوال پر سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ شوگر مافیا، لینڈ مافیا اور حکمران مافیا کے سیاہ دھن کی طاقت سے لڑے جانے والے انتخاب میں کامیاب صرف لٹیرے ہوئے۔

جب تک لوٹ کے مال اور انتخابی امیدوار کا باہمی رشتہ ختم نہیں ہوگا۔ تبدیلی نہیں آئے گی۔ اور نہ ہی عوام کی حکمرانی کا خواب پورا ہوگا۔ لینڈ مافیا اور شوگر مافیا کی دولت کے بل پر اقتدار میں آنے والا کوئی حکمران مافیا تبدیلی نہیں لاسکتا۔ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ آئندہ انتخابات میںمقابلہ پانچ سال برسراقتدار حکمران مافیا، لینڈ مافیااور شوگرمافیا‘ کی ٹرائیکا میں ہے۔ اصل مقابلہ ’حکمران مافیا‘، اُن کے پشتیبان ’لینڈ مافیا‘ اور ’شوگرمافیا‘ کی کالی دولت میں ہوگا۔