مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی جاری ، یونیورسٹی کے پروفیسر سمیت مزید 5کشمیری شہید

گھنٹوں کے دوران شہید افراد کی تعداد 9 ہوگئی، بھارتی اہلکاروں نے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا،شوپیاں میں 5 نوجوانوں کی شہادت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ،علاقہ مکینوں کا شدید احتجاج ،بھارتی اہلکاروں کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد مظاہرین زخمی ، ایک شخص کی حالت تشویشناک، بھارتی مظالم کیخلاف حریت قیادت کی جانب سے شٹر ڈا ئون ہڑتال ، سری نگر سمیت مختلف شہروں میں بازار مکمل طور پر بند

اتوار مئی 20:30

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک یونی ورسٹی کے پروفیسر سمیت مزید 5 کشمیریوں کو شہید کردیاجس کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہید افراد کی تعداد 9 ہوگئی، اہلکاروں نے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا،شوپیاں میں 5 کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ،علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا،،بھارتی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ،، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ، ایک شخص کی حالت تشویشناک، بھارتی مظالم کیخلاف حریت قیادت کی جانب سے شٹر ڈان ہڑتال کے باعث سری نگر سمیت مختلف شہروں میں بازار مکمل طور پر بند۔

کشمیر میڈیا سیل کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔

(جاری ہے)

بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے نام پر شوپیاں کے علاقے باڈیگام میں پروفیسر سمیت 5 کشمیریوں کو گولیاں مارکر شہید کردیا جس کے بعد گزشتہ چوبیس گھنٹے میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ شہدا کی شناخت پروفیسر رفیق بٹ، صدام حسین، بلال احمد، عادل ملک اور توصیف احمد کے نام سے ہوئی۔

پروفیسر رفیق بٹ کشمیر یونی ورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے جب کہ باقی شہید نوجوان طالب علم تھے۔ جب کہ اہلکاروں نے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔پانچ افراد کی شہادت کے علاقے علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دوران مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔۔بھارتی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ،، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جب کہ ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کی شناخت آصف احمد میر کے نام سے ہوئی ہے۔

حریت رہنماوں سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملکنے بھارتی فورسز کے مظالم اور بے گناہ نوجوانوں کی شہادت پر وادی میں مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز سرچ آپریشن کے نام پر چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے معصوم بچوں اور خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنارہی ہے جب کے ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو براہ راست گولیاں ماری جا رہی ہیں،شٹر ڈان ہڑتال کے باعث سری نگر سمیت مختلف شہروں میں بازار مکمل طور پر بند ہیں اور ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

۔واضح رہے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع چٹہ بل میں بھی چار طلبا کو شہید کردیا گیا تھا ۔ نوجوانوں کی شہادت پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کے دوران بھارتی فوج کی گاڑی کی ٹکر سے ایک کار سوار شدید زخمی ہو گیا تھا۔ قابض انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے درجنوں مظاہرین کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔