علی گڑھ یونیورسٹی ، قائد اعظم کی تصویر ہٹانے کیخلاف احتجاج جاری

طلبا پر پولیس اور ہندو انتہا پسندوں کے حملے کیخلاف انصاف کا مطالبہ شد ت اختیار کر گیا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،الہ آباد اوردہلی یونیورسٹی کے طلبا بھی بڑی تعداد میں باب سرسید پہنچ گئے

اتوار مئی 20:30

علی گڑھ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) بھارت کی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کے خلاف دھرنا جاری ، طلبا پر پولیس اور ہندو انتہا پسندوں کے حملے کیخلاف انصاف کا مطالبہ شد ت اختیار کر گیا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،الہ آباد اوردہلی یونیورسٹی کے طلبا بھی بڑی تعداد میں باب سرسید پہنچ گئے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق مودی کے دیس میں انتہا پسندی عروج پر ہے، بھارت میں محمد علی جناح کے رنگ اور نمایاں ہوگئے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کا قائد اعظم کی تصویر کے دفاع میں دھرنا پانچویں روز میں داخل ہوگیا۔ ایک پرجوش نوجوان جناح کیپ پہن کر سٹیج پر پہنچ گیا۔علی گڑھ طلبا تنظیم کے مذن علی نے ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی دھرنے میں ہندو انتہا پسندوں کو للکار دیا۔ مذن علی کا کہنا تھا جامعہ میں قائد اعظم کی تصویر تحریک آزادی کی عظمت کا نشان ہے، اپنی عظمت کا دفاع ہر صورت کریں گے۔ جامعہ ملیہ اسلامی، الہ آباد اور دہلی یونیورسٹی کے طلبا بھی دھرنے میں شرکت کے لیے باب سرسید پہنچ گئے ہیں۔