این ایل سی مرسیڈیز بنز ٹرک پاکستان میں تیا ر کر یگا،این ایل سی اور ڈیملر اے جی کے مابین معاہدہ

مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی، ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل مشتاق احمد فیصل

اتوار مئی 20:30

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) اور ڈیملر اے جی نے پاکستان میں مرسیڈیز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کر دئے۔این ایل سی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل مشتاق احمد فیصل اور پاک این ایل سی موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ضیا احمد جبکہ مرسیڈیز بنز سپیشل ٹرک کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ کلاوس فشینگر اور جرمنی میں سیلز کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے دستخط کئے۔

این ایل سی کی جانب سے مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کی صنعت میں بنیادی تبدیلی کا باعث ثابت ہوگی۔ یورپین مصنوعات کو اپنی ایڈوانس ٹیکنالوجی،، عمدہ کارکردگی، ماحول دوستی، پائیداری اور روڈ سیفٹی کی بنا پر برتر ی حاصل ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل مشتاق احمد فیصل نے مفاہمت کی یاداشت کو پاکستان کی کمرشل گاڑیوں کی صنعت کے لئے تاریخی موقع قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ جدید ترین اسمبلی پلانٹ کی تنصیب روڈ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کارکردگی میں مزید بہتری کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آ ٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 2016-21 میں دی گئی مراعات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی طور پر تیار کئے گئے مرسیڈیز ٹرک مارکیٹ میں مسابقتی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔

ڈائریکٹر جنرل این ایل سی نے کہا کہ مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی پاکستان میں اسمبلی ٹرکنگ کے شعبے میں صحتمندانہ مقابلہ کی فضاء پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے باربرداری کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔ رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور اسپیشل مرسیڈیذ بنز ٹرک کے سیلز اور مارکیٹنگ کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے کہا کہ گزشتہ برسوںکے دوران پاکستان کے انفرااسٹرکیچر اور تعمیرات کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی کے براہ راست اثرات لاجسٹکس کی صنعت پر مرتب ہوئے جس کی وجہ سے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی مضبوط معاشی شرح نمو نے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اس شعبہ میںٹرکوں کی مانگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سی پیک کی بدولت مواصلات کا جدید نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں ، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملائے گا ۔