گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں پندرہ روپے فی کلوکا اضافہ سے ناقابل قبول ہے، شاہد رشید بٹ

عوام کو ریلیف دینے کے بجائے خوردنی تیل پر کسٹم ڈیوٹی میں بتیس فیصد اضافہ کر دیا گیا

اتوار مئی 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں پندرہ روپے فی کلوکے اضافہ سے عوام پر بوجھ بڑھے کا اسلئے یہ ناقابل قبول ہے۔ روپے کی بے قدری کی وجہ سے حال ہی میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں دس روپے فی کلو تک کا اضافہ ہوا تھا جس کے اثر سے عوام کو بچانے کیلئے ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات کے بجائے بجٹ میں درآمد ہونے والے سویابین آئل پر عائدکسٹم ڈیوٹی میں 32.6 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے گھی کے سولہ کلو کے ٹین کی قیمت میں اسی روپے کا اضافہ ہو گیا ہے جو اس ملک کے بائیس کروڑ عوام اور لاکھوںغریب کاشتکاروں پر ظلم ہے جسکا نتیجہ میں فوڈ سیکورٹی کے سنگین مسائل میں اضافہ ہو گا۔

(جاری ہے)

شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ بجٹ میں سویابین آئل کی درامدی ڈیوٹی میں 2950 روپے فی ٹن کے اضافہ سے اسکی درامدکم ہو گئی ہے اور مقامی منڈی میں اسکی قیمت میں چار ہزار روپے فی ٹن اضافہ ہو گیا ہے۔ اسکی درآمد جلد ہی مکمل طور پر رک جائے گی جس کے بعد عوام خوردنی بیج درامد اور پراسس کرنے والے ایک بڑے کاروباری گروپ کے رحم و کرم پر آ جائیں گے ۔

خوردنی تیل کی درآمد پرنو ہزار پچاس روپے کے محاصل کو اب بارہ ہزار روپے فی ٹن کیا جا رہا ہے جس کے مقابلہ میں خوردنی بیج کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں صرف سات ہزار ایک سوروپے فی ٹن وصول کیا جا رہا ہے اور حالیہ بجٹ میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔ سویابین آئل کے تقریباًچالیس درامدکنندگان سالانہ ڈھائی لاکھ ٹن تیل درآمد کرتے ہیںمگر جلد ہی سارا ملک خوردنی بیج منگوانے اور پراسس کرنے والے ایک با اثربزنس گروپ کے رحم و کرم پر ہو گا جو اپنی من مانی قیمت پر تیل فروخت کرے گا جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔

خوردنی بیج کی درامد پر گزشتہ پانچ سال سے ڈیوٹی کی شرح یکساں رکھنے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ کاشتکار متاثر ہوئے ہیں۔ایک گروپ کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومت گزشتہ پانچ سال سے سالانہ آٹھ ارب روپے نقصان برداشت کر رہی ہے جو اب انیس ارب روپے سالانہ ہو جائے گا۔ چند افرادکو فائدہ دینے کیلئے بائیس کروڑ عوام کے مفادات پر سودے بازی کی نہ کی جائے ۔ اس فیصلے کو واپس لیا جائے کیونکہ اسکے اثرات الیکشن کے نتائج پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :