نعیم بخاری پر کسی حملے کا ریکارڈ موجود نہیں، برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس

سو گیا تھا ، اچانک اٹھنے کی وجہ سے گرگیا اور زخمی ہوگیا، گرنے کے باعث 4 پسلیاں ٹوٹ گئیں ہیں، ڈاکٹرز نے ایم آر آئی بھی کیا ہے ،ڈاکٹرز بے ہوشی کی وجہ جاننا چاہتے ہیں،نعیم بخاری کی میڈیا سے گفتگو

اتوار مئی 20:30

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری پر کسی نے حملہ نہیں کیا۔ترجمان برطانوی پولیس کے مطابق ان کے پاس نعیم بخاری پر کسی حملے کا ریکارڈ موجود نہیں۔دوسری جانب نعیم بخاری نیمیڈیاسے گفتگو میں اپنے اوپر حملے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سوگئے تھے، اچانک اٹھنے کی وجہ سے گرگئے اور زخمی ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرنے کے باعث ان کی چار پسلیاں ٹوٹ گئیں، ڈاکٹرز نے ان کا ایم آر آئی بھی کیا ہے تاہم وہ بے ہوشی کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔۔نعیم بخاری کے مطابق انہیں کسی نے دھکا نہیں دیا تھا وہ خود گرے تھے۔انہوں نے بتایا کہ وہ لندن نمل یونیورسٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے آئے تھے، انہیں اس سلسلے میں امریکا بھی جانا تھا تاہم اب ان کی وہاں جانے کی ہمت نہیں۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کے رہنما انڈر گراونڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر گرگئے جس کے باعث انہیں چوٹیں آئی تھیں۔۔تحریک انصاف کے مطابق نعیم بخاری نمل کالج کی چندہ مہم کے سلسلے میں لندن میں موجود تھے جہاں وہ انڈر گراونڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اچانک گر گئے۔۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نعیم بخاری کو سر اور پسلیوں والے حصے میں چوٹیں آئی ہیں جس پر انہیں لندن کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔