الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود جیکب آبادکے ایم پی اے کو 18کروڑ 40لاکھ کے فنڈزکا اجراء

حزب اختلا ف کا احتجاج ، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اتوار مئی 20:31

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود جیکب آبادکے ایم پی اے کو 18کروڑ 40لاکھ کے فنڈزکا اجراء حزب اختلا ف کا احتجاج سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود جیکب آبادکے رکن صوبائی اسمبلی کو اپریل کے مہینے میں18کروڑ 40لاکھ کے فنڈزکا اجراء کیاگیاہے جبکہ محکمہ ہائی وے جیکب آبادمیں حال ہی میں 27کروڑ سے زائد کی ادائیگی کی ہے جس پر مسلم لیگ ن کے اسلم ابڑونے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود محکمہ خزانہ سندھ کی جانب سے فنڈ زکا اجراء قابل افسوس ہے یہ الیکشن سے قبل دھاندلی کی تیاری ہے جیکب آبادمیں پی پی کے دس سالہ دورمیں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر 45ارب سے زائد کی میگا کرپشن کی گئی ہے الیکشن قریب آنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے منصوبوں پر پابندی کے باوجود فنڈزکااجراء قابل مذمت ہے مذکورہ رقم پی پی کے نمائندے الیکشن پر خرچ کریں گے انہوںنے کہاکہ جیکب آباد شہر پر اگر ایک ارب ہی خرچ کیاگیا ہوتاتو شہرکی حالت ایسی خراب نہ ہوتی روڈ راستے تباہ نہ ہوتے شہریوں کوآج بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں اسپتالوں میں غریب مریضوں کو ادویات نہیں ملتی جس کے باعث جیکب آبادکے شہری پی پی سے تنگ آگئے ہیں انہوںنے 19اپریل کو محکمہ خزانہ کی جانب سے 18کروڑ40لاکھ کے فنڈزکے اجراء کا لیٹر صحافیوں کو دکھاتے ہوئے کہاکہ پی پی کی اس کرپشن کے خلاف عدالت جائیں گے نیب سمیت کرپشن کے خلاف کام کرنے والے ادارے معاملے کی تحقیقات کرکے پی پی کے نمائندوں کے خلاف کاروائی کریں اس موقع پر تحریک انصاف کے سردار سخی عبدالرزاق کھوسو، مسلم لیگ فنکشنل کے میراصغر خان پہنور ودیگر بھی موجود تھے ۔