فورسز کی کوششوں سے بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے حالات بہتر ہوگئے ہیں ، میر عبدالقدوس بزنجو

کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں کئی ٹارگٹ کلرز ،خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ، کئی دہشتگردی کے واقعات کو ناکام بنایاگیا،بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے ترقیاتی اسکیموں سمیت فنڈ کی ریلیز پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا ہے ،امید ہے فیصلے پر نظر ثانی کرینگے ،وزیراعلی بلوچستان کا تقریب سے خطاب

اتوار مئی 21:20

ْ!کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ فورسز کی کوششوں سے بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے حالات بہتر ہوگئے ہیں ،،کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں کئی ٹارگٹ کلرز ،،خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا اور کئی دہشتگردی کے واقعات کو ناکام بنایاگیا اس کا سہرا فورسز کے سر جاتاہے ،خاران میں حالیہ واقع کی شدید الفاظ میں ہم مذمت کرتے ہیں ،دہشتگردوں کا پیچھا کیا جائیگااور انہیں گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی ،گوادر سی پورٹ کا ہر صورت مکمل کیا جائیگا ،منظور پشتین سے بہت سی امیدیں وابستہ تھی کہ وہ پشتون قوم کیلئے اچھار ول ادا کرینگے مگر افسوس کہ اس نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جو پشتون قوم کیلئے نقصان دہ ہوگا امید ہے کہ وہ مستقبل میں اپنا اہم رول ادا کرینگے اور پشتون قوم کو ترقی نصیب ہوگی ،انہوں نے یہ بات اتوار کی شب ہاشمی ہائوس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پرچم کشائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر سابقہ رکن قومی اسمبلی جام کمال ،سابقہ رکن قومی اسمبلی دوستین ڈومکی ،صوبائی وزیر امان اللہ نوتیزئی ،وزیراعلی بلوچستان کی مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ،سینیٹر نصیب اللہ بازئی ،صوبائی وزیر پرنس احمد علی بلوچ ،رکن صوبائی اسمبلی محمد خان لہڑی ،سابقہ صوبائی وزیر میر فائق خان جمالی ،صوبائی وزیر طاہر محمود ،سابقہ صوبائی وزیر سعید احمد ہاشمی ،علائوالدین کاکڑ ،شاہ زمان خلجی ،خدابخش لانگو ،میر اسماعیل لہڑی ،چوہدری شبیر ،کونسلر خدابخش لہڑی ،میر ظفر بلوچ ،وزیراعلی کے مشیر اونگزیب کھیتران اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی ،وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ میں سعید احمد ہاشمی کے انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے آج اس شاندار تقریب کا انعقاد کیا اور پارٹی کے پرچم کشائی کیلئے تقریب منعقد کی جس میں اہم شخصیات نے شرکت کی ،انکی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے ترقیاتی اسکیموں سمیت فنڈ کی ریلیز پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا ہے ،امید ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرینگے ،اب میں کھلی کچہری نہیں لگا سکتا کیونکہ میں کسی کی مدد نہیں کرسکتا ہوں کیونکہ کھلی کچہری لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،انہوں نے کہاکہ ہمارا دشمن بہت چالاق ہے جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو امن وامان کے حوالے سے صورتحال خراب تھی مگر ہم نے کوششیں کرکے اور فورسز کے تعاون سے صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنائی اور کئی ٹارگٹ کلرز ،،خودکش حملہ اور کئی دہشتگردی کی کوششوں کو ناکام بنادیا ہے انشاء اللہ جب تک ہم اقتدار میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائیگا یہ ہمارا فرض ہے ،ہم تین وزراء اعلی نے سی سی آئی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا اسکے باوجود وفاقی حکومت نے بجٹ پیش کیا اب ہمیں بھی پیش کرنا ہوگا ،اور انشاء اللہ یہ عوامی بجٹ ہوگا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ،انہوں نے کہاکہ گوادر میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا ایک بحران پیدا ہوگیا ہے جسے حل کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں 50کروڑ روپے ریلیز کردیئے گئے اور گوادر کے عوام کو 3لاکھ گیلن پانی دیا جارہاہے ،اسکے علاوہ دوسرے مرحلے میں مزید دو لاکھ گیلن پانی دیا جائیگا ،اس کیلئے بھی رقم ریلیز کردی گئی ہے ،،سی پیک کو ہر صورت میں مکمل کیا جائیگا یہ بلوچستان سے شروع ہواہے یہ بڑا اہم منصوبہ ہے اس کی ترقی پاکستان اور بلوچستان سے وابستہ ہیں ،وزیراعلی بلوچستان نے کہاکہ منظور پشتین پشتونوں کیلئے ایک اچھا مدد گار ثابت ہوسکتا تھا مگر اس نے پشتون دشمنی شروع کردی ہے اس سے پشتونوں کیلئے مسائل پیدا ہونگے امید ہے کہ وہ پشتونوں کیلئے ایک اہم رول ادا کرینگے ،وزیراعلی بلوچستان نے کہاکہ ہم اپنے کم وقت میں بڑے سے بڑے منصوبے شروع کرنے کا ادارہ رکھتے تھے تاکہ ترقیاتی منصوبوں سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ ہوں مگر ہائیکورٹ کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہاہے امید ہے کہ ہائیکورٹ اس پر نظرثانی کرے گی ،ہم سپریم کورٹ جانے کے بارے میں بھی تیاری کررہے ہیں تاکہ ہم پر جو پابندیاں عائد کی ہے وہ ختم ہوسکیں ،تاکہ بلوچستان کے عوامی کی خدمت کی جاسکے ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ 3سالوں سے ہمیں این ایف سی ایوارڈ نہیں ملا اور ہمیں نظرانداز کیا جارہاہے ،اگر ہمیں وقت پر این ایف سی ایوارڈ مل جاتاتوہمیں بہت سے مشکلات کا سامنا ہے وہ ختم ہوجاتے ،انہوں نے کہاکہ چین کی حکومت سے ہم نے حال ہی میں بہت سے معاہدے کئے ہیں جن پر جلد ہی کام شروع ہوجائے گا ،وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں ابھی تک ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جارہاہے ،انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے معلوم کیا ہے کہ انکی حالت بہتر ہے ،انہوں نے کہاکہ پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جہاں پر فورسسز نے قربانیاں دی ہیں وہاں پر جنرل بھی شامل ہیں ،انشاء اللہ ہم دہشتگردی پر جلد قابو پالیں گے ،انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایک سال کا بجٹ پیش کیا ہے اب ہمیں بھی بجٹ ایک سال کا پیش کرنا ہوگا ۔