ہمیں دائیں اوربائیں بازوکی بجائے پاکستان کے بارے میں سوچناچاہیے ‘گورنرپنجاب

اتوار مئی 21:30

ملتان۔ 06مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) گورنرپنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کہاہے کہ ہمیں تعصبات سے بالاترہوکر سوچناچاہیے‘ میں دائیں اوربائیں بازوکاقائل نہیں ،دائیں بائیں بازو کی بہت سیاست ہوگئی‘ پاکستان ایک جسم ہے اورہمیںپاکستان کی سیاست کرنی چاہیے اورپاکستان کے بارے میں سوچناچاہیے ۔ان خیالات کااظہارانہوںنے اتوارکے روز ملتان ٹی ہائوس کے زیراہتمام معروف کالم نگار ،مصنف ،دانشور اوروزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن عرفان صدیقی کی کتاب ’’جوبچھڑگئے ‘‘کی تعارفی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی نامور شاعر اورادارہ فروغ قومی زبان کے صدر نشین افتخار عارف تھے ۔تقریب میں چیئرمین ملتان ٹی ہائوس میاں تنویراحمد شیخ ،سینیٹررانامحمودالحسن اورایم پی اے بیرسٹرمحمدعلی کھوکھرنے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرپنجاب نے کہاکہ ہماراقومی مزاج بن چکاہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس پارٹی میں ہیں اس میں کوئی خامی نہیں ،ہم اوروں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں اورایساشعورکی کمی کے باعث ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان کواس وقت مثبت سیاست کی ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاہے کہ انسانی جذبوںکو نظریات کی عینک سے نہیں دیکھناچاہیے ۔نظریات جوبھی ہوں جذبے دکھ اورخوشیاں ایک جیسی ہوتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ملتان آفس کے لئے اگرصوبائی حکومت اراضی فراہم کردے تواس کی تعمیر کے اخراجات وفاقی حکومت خودکرے گی ۔

انہوںنے کہاکہ اکادمی ابیات کے مظفرآباد ،دادو،وزیرستان میں بھی دفاترقائم کئے گئے ہیں ۔پشاورمیں اکادمی کے دفترکی نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے اورکوئٹہ میں بھی اس کی نئی عمارت تعمیرکی جارہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایک کالم نگارکی حیثیت سے میں نے انسانی جذبوں کو ہی کالموں کاموضوع بنایا۔انہوںنے مزیدکہاکہ میں میں اس بات پریقین رکھتاہوں کہ ہرباشعورشخص جانبدارہوتاہے۔

جب خدانے آپ کو شعوردیاتوآپ کو اچھے برے کی تمیزکی صلاحیت بھی عطاء کردی ۔پھرآپ جودرست سمجھتے ہیں وہی لکھتے ہیں اس سلسلے میں میرانقطہ نظر بہت واضح ہے ۔تقریب کے مہمان خصوصی افتخار عارف نے اظہارخیال کے دوران کہاکہ اگرچہ کالم نگاری کو ادب میں اہمیت نہیں دی جاتی اوراخباری کالم کے بارے میں عموی تاثریہ ہے کہ وقتی اہمیت کے ہوتے ہیں لیکن عرفان صدیقی کے یہ کالم انشاء پردازی کی اعلیٰ مثال ہیں ۔

ان کالموں کے ذریعے انہوںنے ان شخصیات کی زندگیوں کااحوال محفوظ کردیاہے جن کا ہماری قومی سیاست ،ادب وثقافت اورزندگی کے مختلف شعبوسے تعلق ہے۔انہوںنے کہاکہ عرفان صدیقی کے ساتھ ہماراقلم کارشتہ ہے اورقلم کایہ رشتہ ہمیشہ مضبوط ہوتاہے ۔افتخار عارف نے کہاکہ جوبچھڑگئے ایک ایسی کتاب ہے کہ جسے نصاب کاحصہ بنایاجاناچاہیے۔قبل ازیں خالدمسعودخان ،قمررضاشہزاد،رضی الدین رضی اورسجادجہانیہ اورشاکرحسین شاکرنے خطاب کے دوران کہاکہ عرفان صدیقی کے کالموں کایہ مجموعہ ایک تاریخی دستاویز ہے ۔انہوںنے بچھڑجانے والی مختلف شخصیات کے بارے میں جومضامین تحریرکئے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔