کوئٹہ، پاکستانی تاجر برادری کو ویزہ کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں،مہدی ہنر دوست

ایران پاکستان کے ساتھ بہترین تجارتی تعلقات کا خواہ ہے پاکستان میں گوادر اور ایران میں چاہ بہار کی بندرگاہوں کے درمیان لنک ہونا چاہیے اس سے دونوں ممالک کے تجارتی روابط میں اضافہ ہوگا ،پاکستان میں متعین ایرانی سفیر کا تقریب سے خطاب

اتوار مئی 21:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا ہے کہ پاکستانی تاجر برادری کو ویزہ کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں ایران پاکستان کے ساتھ بہترین تجارتی تعلقات کا خواہ ہے پاکستان میں گوادر اور ایران میں چاہ بہار کی بندرگاہوں کے درمیان لنک ہونا چاہیے اس سے دونوں ممالک کے تجارتی روابط میں اضافہ ہوگا یہ بات انہوں نے گزشتہ روز لاہور کے مقامی ہوٹل میںپاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام ایرانی و پاکستانی امپورٹرز اور ایکسپورٹرز میں گولڈ میڈل و انعامات کی تقسیم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرپاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ولی محمد، پیٹرن انچیف و رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق ایڈووکیٹ، جنرل بلوچستان رئوف عطا، سابق آجی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ر اعجازشاہد،صوبائی وزیر انڈسٹریز پنجاب شیخ علائو الدین، پاک ایران چیمبر کے نائب صدر منصور احمد نشاتی، ایرانی کونسل جنرل لاہور ماجد صادقی، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر جمعہ خان، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پیٹرن انچیف غلام فاروق، معروف بزنس وومن حنا منصب خان نے بھی خطاب کیا تقریب میں پاکستان اور ایران کی بزنس کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا کہ ایران اورپاکستان دونوں برادر ہمسایہ اسلامی ممالک ہیں دونوں ممالک کے درمیان امن کی بحالی اور تجارت کے فروغ کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجر برادری کو ویزہ کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں اور ویزا کے حصول کا عمل آسان کردیا ہے ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین ٹرین سروس بحال کی جائے کیونکہ کمیونیکیشن میں بہتری سے معاشی تعلقات مضبوط ہونگے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کے وسیع مواقع موجود ہیں اس لئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے انہوں نے بزنس کمیونٹی اور تجارت کے فروغ کیلئے پاک ایران مشترکہ چیمبر اور اس کے صدر ولی محمد کی کوششوں کوسراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کی تجارتی تنظیموں کو اس بارے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔